تحفظ حقوق نسواں ایکٹ وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج

اپ ڈیٹ 04 مارچ 2016 09:43am

اسلام آباد:پنجاب اسمبلی سے منظورتحفظ حقوق نسواں ایکٹ کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا گیا،درخواست گزارکا کہنا ہے کہ بل غیراسلامی ہے،اس سے خاندانی اکائی اور استحکام میں مزید دراڑیں آسکتی ہیں۔

درخواست گزارڈاکٹر محمد اسلم خاکی نے تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کووفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کرتیہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ ایکٹ کی بنیاد اس ذہنیت پر ہے کہ مرد ہی ہمیشہ مجرم ہے، تحفظ حقوق نسواں ایکٹ غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے۔تحفظ حقوق نسواں ایکٹ سے خاندانی اکائی اور استحکام میں مزید دراڑیں آسکتی ہیں۔

نسواں بل کے ایکٹ کی دفعہ7 کے تحت ملزم مرد کو ٹریکر پہنانا ذلت آمیز فعل ہے،مرد کو گھر چھوڑنے کا حکم دینا غیر مناسب اور خاندانی نظام میں اصلاح کے خلاف ہے، حقوق نسواں ایکٹ کی دفعہ نمبر 2(i)،7(d)اور 7(e)کو خلاف اسلام قرار دیا جائے۔

Read Comments