متحدہ قومی موومنٹ کو ایک اور جھٹکا

شائع 07 مارچ 2016 12:50pm

کراچی : سابق رکن سندھ اسمبلی اورسابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے آج مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس میں انہوں متحدہ قومی مومنٹ کو چھوڑنے کا اعلان کیا ساتھ ہی صوبائی نشست چھوڑنے کا بھی اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مصطفی کمال کی سوچ اور امید مثبت لگی۔ میں ان کے اور انیس قائم خانی کے شانہ بشانہ ہوں۔کراچی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتا ہوں۔انہو ں نے کہا کہ کہا گیا مصطفی کمال اسلام آباد آئے، ایجنسیوں سے ملے، سب جھوٹ نکلا۔ماضی میں افواہیں گرم رہیں ، مگر کسی افواہ میں صداقت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عزت نفس کا سودا کسی نے نہیں کیا۔

دوران پریس کانفرنس ڈاکٹر صغیر احمد فرط جذبات میں رو پڑے۔کہنے لگے مہاجر یعنی اردو بولنے والے ملک دشمن نہیں ہیں۔اردو بولنے والی کمیونٹی کی حب الوطنی مزاق بن گئی ہے۔خدا کے واستے مہاجر کمیونٹی کو قومی دھارے میں واپس لایا جائے۔ ملک دشمنوں کو شکست دینا چاہتا ہوں۔خدا کے لیے اپنی سیاست کو پاکستان لے لیے وقف کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں کہتا تھا خدا کے واسطے کارکنوں کو پڑھنے دو۔کہتا رہا کہ لوگوں پر رحم کرو انہیں گرفتار نہ کرواؤ۔خدا کے واسطے کارکنوں کو عزت دو۔انہیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال نہ کرو۔میں کارکنوں کو چھڑانے کے لئے انتظامیہ سے بات کرتا رہا ہوں۔

پریس کانفرنس میں انہوں متحدہ قومی مومنٹ کو چھوڑنے کا اعلان کیا ساتھ ہی صوبائی نشست چھوڑنے کا بھی اعلان کردیا کہا کہ میں ڈلیور نہ کر سکا اس لیے اپنے ووٹرز سے معافی مانگتا ہوں۔

ڈاکٹر صغیر احمد کے بعدانکے ہمراہ بیٹھے مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں امن کے لیے آئے ہیں۔ہمارا ٹارگٹ ایم کیو ایم نہیں بلکہ تمام لوگ ہیں۔ماضی میں جو ثبوت دیئے گئے پہلے ان پر بات کرلی جائے۔ثبوت مانگنے والے اس پر کام کریں جو ان کے پاس موجود ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اپنی قوم اور ووٹرز سے سچ پر مبنی بات کی۔تحریک انصاف سمیت کسی پارٹی نے رابطہ نہیں کیا۔نئے صوبے بننا کوئی گناہ نہیں ہے۔سندھ کے لوگ جب صوبہ بنانے کے لیے تیار ہونگے تو صوبہ بن جائے گا۔

ایک صحافی کے سوال پر مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صغیر احمد کی شمولیت ہمارے لیے چھکا یا چوکا نہیں بلکہ سینچری ہے۔

Read Comments