Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف تین روزہ دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہونگے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو دورے کی دعوت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے دی ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ ہونگے۔ پاکستان سمیت بیس اسلامی ممالک کی مشقیں رعد الشمال سعودی عرب میں جاری ہیں ، اختتامی تقریب میں وزیراعظم نوازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت کئی ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔اسلامی فوجی اتحاد اور خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشقیں رعد الشمال کے نام سے سعودی عرب میں جاری ہیں جس میں پاکستان سمیت بیس ممالک کی بحری ، بری اورفضائی افواج شریک ہیں ۔چودہ فروری سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کنگ خالد ملٹری سٹی میں جاری ان مشقوں میں شامل فورسزکوغیرمنظم افواج اوردہشتگرد گروپوں کے خاتمے کیلئے تربیت دی جارہی ہے ان مشقوں کا ایک بنیادی مقصد خطے کے استحکام ، امن کے قیام سمیت دیگرعسکریت پسند گروپوں سے نمٹنے کیلئے متحد ہو کر موثر کارروائیاں کرنا ہے ۔تجزیہ کاران مشقوں کوانتہائی اہمیت دے رہے ہیںارکان اسمبلی نے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اس اتحاد کو خوش آئند تو قرار دیا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو سب سے پہلے اپنا مفاد مقدم رکھنا چاہیے ۔ان مشقوں کی اختتامی تقریب میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پروزیراعظم محمد نوازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اتحادی ممالک کے سربراہان شرکت کررہے ہیں ۔
اسلام آباد:وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف تین روزہ دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہونگے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو دورے کی دعوت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے دی ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ ہونگے۔
پاکستان سمیت بیس اسلامی ممالک کی مشقیں رعد الشمال سعودی عرب میں جاری ہیں ، اختتامی تقریب میں وزیراعظم نوازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت کئی ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔
اسلامی فوجی اتحاد اور خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشقیں رعد الشمال کے نام سے سعودی عرب میں جاری ہیں جس میں پاکستان سمیت بیس ممالک کی بحری ، بری اورفضائی افواج شریک ہیں ۔
چودہ فروری سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کنگ خالد ملٹری سٹی میں جاری ان مشقوں میں شامل فورسزکوغیرمنظم افواج اوردہشتگرد گروپوں کے خاتمے کیلئے تربیت دی جارہی ہے ان مشقوں کا ایک بنیادی مقصد خطے کے استحکام ، امن کے قیام سمیت دیگرعسکریت پسند گروپوں سے نمٹنے کیلئے متحد ہو کر موثر کارروائیاں کرنا ہے ۔
تجزیہ کاران مشقوں کوانتہائی اہمیت دے رہے ہیںارکان اسمبلی نے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اس اتحاد کو خوش آئند تو قرار دیا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو سب سے پہلے اپنا مفاد مقدم رکھنا چاہیے ۔
ان مشقوں کی اختتامی تقریب میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پروزیراعظم محمد نوازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اتحادی ممالک کے سربراہان شرکت کررہے ہیں ۔