واشنگٹن :امریکا نے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کو ویزہ جاری کرنے سے انکار کر دیا، ایرانی وزیر خارجہ نے جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنی ہے۔
امریکا کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کے قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا۔
ایران وزیرخارجہ کی جانب سےان کی شرکت کو روکنے کے اس عمل کو پر اسے 1947 میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کہا جا رہا ہےاورساتھ ہی ساتھ امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کو امریکی ویزہ دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
ایران دفتر خارجہ کی جانب سے اس عمل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ متوقع طور پرجواد ظریف نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر مذمتی بیان جمع کروانا تھا،امریکا کی جانب سے انہیں خطاب میں شرکت سے ہی روک دینا ایک قابل تشویش عمل ہے۔
واضح رہے کہ کچھ دن قبل امریکہ نے بغداد میں ایک فضائی حملے میں ایرانی قدس جوج کے سربراہ قاسم سلیمانی کو مار دیا تھا جس کے بعد ایران امریکا کشیدگی کے معاملات نے پورے خطے کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہوئی ہے۔
ان کشیدگی کے معاملات میں امریکا کی جانب سے ویزہ نہ دے کر اس معاملے کو اور سنگین بنا دیا گیا جس کے بعد ایرانی دفتر خارجہ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کے حملے اور قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ امریکا نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اپنی افواج کو بھی الرٹ کر دیاتھا لیکن اب امریکہ نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کو نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب سے منع کر دیا ہے، بلکہ انہیں امریکی ویزہ دینے سے بھی انکار کر دیاہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اجلا س میں تمام ممالک کے سربراہان کو ویزہ دینا امریکہ کی ذمہ د اری ہے اوروہ ویزہ دینے کا پابند ہے۔