متحدہ اور مصطفی کمال کی جنگ میں اہم موڑ

شائع 10 مارچ 2016 12:07pm

کراچی:متحدہ قومی موومنٹ گزشتہ ایک ہفتے سے شدید مشکلات کا شکار ہے، مشکلات اس وقت شروع ہوئیں جب مصطفی کمال کی اچانک آمد نے بہت سے راض فاش کردیئے۔اس کے بعد ان کی پارٹی میں ڈاکٹر صغیر کی شمولیت نے ایم کیوایم کی مشکل میں اضافہ کردیا اور بہت ساری باتوں کا اقرار کرتے ہوئے مزید کچھ انکشافات کردیئے۔

آج اس کہانی میں ایک نیا موڑ آیا جب وسیم آفتاب اور افتخار عالم نے بھی مصطفی کمال کا ساتھ دینے کی ٹھان لی اور ان کے رہائش گاہ پر ایک اہم کانفرنس کا اعلان کیا جس میں انہوں نے بہت ساری باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مصطفی کمال کی آواز سنی اور حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنی غلطیوں کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ وسیم آفتاب نے مزیدکہا کہ انہوں نے ماضی میں بہت سی ایسے کام کئے جن کا انہیں بے حد افسوس ہے پر اسے نہیں جسے ہونا چاہئے۔جس شخص کے قصیدے پڑھے وہی اسی قوم کی لنکا ڈھانے میں آگے آگے ہے۔آج متحدہ کا کارکن کہیں کھڑا ہوجائے تو اہی اس قوم سے دو فٹ دور ہٹ جاتا ہے۔

دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوئے ہیں جو نظریئے پر ڈٹ گئے۔سیاسی جماعتیں اپنے ووٹرز کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہیں۔مختلف ادوار سے گزرے کر رابطہ کمیٹی تک پہنچے تو بہت سے راز افشا ہوئے۔اب نہ ہی اصلا ح کی گنجائش ہے اور نہ ہی وقت ،انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سابقہ پارٹی میں کچھ ایسے اقدام اٹھائے جن کی وجہ سے قوم کی بیٹیاں بیوہ ہوگئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم شہر کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ،خرابی کہیں بھی نہیں بلکہ ہمارے اند ر ہے،ہم اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔مذہب اور ذات کی بناء پر تقسیم ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوئے جو نظریے پر ڈٹ گئے،ہم اس بات پر اکھٹے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو توڑنا نہیں جوڑنا ہے۔

وسیم آفتاب کے بعد افتخار عالم نے بھی پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم سے علیحدگی کاا علان کرتے ہوئے کہاکہ میں متحدہ اور الطاف حسین کو خیرباد کہتا ہوں اورمیں بھی مصطفی کمال کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ہم مستحکم پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ خاموشی سے زندگی گزاریں یا ظلم کے خلاف آواز بلند کریں لیکن جب ہم مصطفی کمال سے ملے تو یہ فیصلہ کرنا ہمارے لئے آسان ہوگیا۔

 

Read Comments