لاہور:پنجاب کابینہ نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔
لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں نوازشریف کی جانب سے ضمانت میں توسیع کی درخواست پر غور کیا گیا۔
کابینہ میں پنجاب کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے نوازشریف کی صحت سے متعلق رپورٹ پر تجاویز پیش کیں جس کا کابینہ نے جائزہ لیا۔
کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ کمیٹی نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،16 ہفتوں میں نوازشریف ایک روز بھی اسپتال میں ایڈمٹ نہیں رہے۔
وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا نواز شریف کے دل کا تاحال کوئی آپریشن نہیں ہوامکمل میڈیکل رپورٹس بھی نہیں دی گئیں،ضمانت میں توسیع کا کوئی جواز نہیں ،لگتا ہے طول دینے کےلیےیہ سب کیا گیا ۔
وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے کہا کہ ذاتی معالج اور ذاتی ملازم میں کوئی فرق نہیں ہوتا، میڈیکل بورڈ نے فیصلہ میڈیکل رپورٹ دیکھ کر کرنا ہے، نواز شریف کی خواہش پر پنجاب حکومت فیصلہ نہیں کرے گی ،نون لیگ رونا وائرس کا شکار ہے۔
وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا کہ 16ہفتے سے نواز شریف کی حالت بہتر ہے، متعدد بار میڈیکل رپورٹ مانگنے کے باوجود رپورٹ پیش نہیں کی گئی ،نوازشریف کی حالت پاکستان میں ہی اسٹیبل ہو گئی تھی۔
شہبازشریف کی پنجاب حکومت کے فیصلےپر شدید مذمت
مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ دینے کے پنجاب حکومت کے فیصلےکی شدید مذمت کی ہے۔
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پنجاب حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ حکمرانوں کی کم ظرفی اور سیاسی کا ثبوت ہے،اسی پنجاب حکومت نے علاج کے لیے ڈاکٹرز کی رپورٹ پر دستخط کیے آج پنجاب حکومت نے سیاسی انتقام کے لیے فیصلہ تبدیل کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کے رویئے کی وجہ سے عدالت گئے،ان کے پاس نواز شریف کی صحت پرسیاست کے سوا کچھ نہیں بچا،پنجاب حکومت سیاسی انتقام،حسد، بغض،تکبراورضد میں اندھی ہوچکی ،علاج کسی بھی انسان کا بنیادی،انسانی اورانونی حق ہےنوازشریف کے علاج کے اہم مرحلےپررکاوٹ ڈالنااقدام قتل کے مترادف ہے۔