اسلام آباد ہائی کورٹ:احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020 03:48am

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرداخلہ احسن اقبال اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرلی،دونوں کو ایک ،ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں ڈویژنل بنچ نے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے نیب پراسیکیورٹرکو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کبھی انکوائری پر گرفتار کرتے ہیں اور کہیں ریفرنس کے بعد بھی نہیں پکڑتے؟مقدمہ ثابت ہونے تک ملزم بے گناہ ہوتا ہے ،ملزم کی گرفتاری کا نیب اختیار اسے شہری کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کرسکتا۔

 چیف جسٹس نے مزید کہاکہ اگردرخواست گزارمعاونت جاری رکھتے ہیں تو گرفتار کیوں کر رہے ہیں ،دونوں ملزمان کو ابھی تک معصوم کہا جاسکتا ہے ؟غیرضروری گرفتاری کی وجہ پرعدالت کومطمئن کریں۔

 وکیل احسن اقبال نے کہا کہ نیب گرفتارکرتا ،پلی بارگین کیلئے10کروڑمانگتا اور چھوڑدیتا ہے،بظاہر نیب اغواء برائے تاوان کےلیے اٹھاتا ہے۔

 چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا پلی بارگین دنیا بھرمیں ہے،ملک میں کرپشن بھی تو ہے، ادارے پراعتماد ہونے پر نیب کا احتساب ہوگا،نیب عدالت نہیں ،صرف تحقیقاتی ادارہ ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب صرف شکایت پر بھی گرفتارکرسکتا ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ محض شکایت پربھی گرفتارکرتے ہیں؟ کریمنل کیس میں ریکوری کرنی ہوتی ہے ۔

نیب پراسیکیوٹر نے احسن اقبال پر چار الزمات کی وضاحت کی،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الزامات میں کہیں کریمنل نیت یا مالی فائدہ لینے کا ذکرتک نہیں ٹرائل میں جرم ثابت کر کے ملزمان کو16سال قید کی سزا دلوائیں غلطی پر بھی کرپشن کیس بنے گا تو گورننس کا پورا نظام رک جائے گا؟، نیب نے ایک ملزم وفاقی سیکرٹری کو دوسرے سیکرٹری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا۔

دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دونوں کو ایک، ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

Read Comments