سینیٹ اجلاس میں آٹا بحران سے متعلق قائمہ کمیٹی کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی۔رپورٹ بحث کے دوران مشاہداللہ خان کے ریمارکس پر حکومتی ارکان نے احتجاج کیا ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر تا رہا۔مشاہداللہ خان نے ریمارکس واپس لئے تو چیئرمین نے صورتحال پر قابو پاپا۔اپوزیشن نے وزرا کی عدم نوجودگی پر ایوان سے واک آوٹ بھی کیا۔
سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی۔ گندم بحران سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے پیش کی اور بتایا کہ سندھ حکومت نے گندم کی خریداری بروقت نہیں کی۔پنجاب میں دو ملین ٹن گندم کا شاٹ فال تھا جبکہ سندھ حکومت نے گزشتہ سال گندم کی خریداری نہیں کی جس پر پرائیوٹ سیکٹر نے گندم کی خریداری کی ۔
مسلم لیگ ن کے رکن پرویز رشید ،مشاہد اللہ خان نے گندم کے بحران کے زمہ داران کو بے نقاب کرنے اور کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پی پی پی کی شیری رحمن نے کہا کہ صورتحال خود بخود پیدا نہیں ہوئی گندم کے بحران میں ایک وزیر کا نام بھی لیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لے آئیں۔
قائد ایوان شبلی فراز نے کہا صرف گندم کے بحران کےذمہ دار نہیں ملک کو لوٹنے والے تمام چوروں کو بے نقاب کرنا چاہیئے۔
مشاہداللہ خان نے کہا کہ جن لوگوں کو چور کہا گیا اُن پر ثانت نہیں ہو سکا دوبارہ کاروائی کریں پھر بھی ثابت نہیں ہو گا۔
پی ٹی آئی کے فیصل جاوید نے وزیراعظم کا نام لیا تو مشاہد اللہ خان نے کہا وہ سلیکٹیڈ وزیراعظم ہیں۔
مشاہداللہ خان کے ریمارکس پر حکومت اراکین نے شدید احتجاج کیا ایوان شور شرابا ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا چیئر مین نے بڑی مشکل سے صورتحال پر قابو پایا۔
مشاہد اللہ خان نےاپنے الفاظ واپس لے لیے۔
سینیٹ میں سرونگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل دو ہزار بیس پیش کیا گیا جو متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ سینیٹ اجلاس کل سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔