'پاکستان افغان امن معاہدے کا نہ حصہ دار ہے نہ ضامن ہے'

شائع 04 مارچ 2020 03:13pm

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کاکہناہے پاکستان افغان امن معاہدے کانہ حصہ دارہےنہ ضامن بلکہ پاکستان، افغان امن عمل میں سہولت کارکا کردارہے ۔چاہتے ہیں افغان زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

سینیٹ اجلاس کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ افغان امن عمل کا قدم آسان نہیں ہوگا۔افغان امن عمل کا راستہ کٹھن ہے۔پاکستان نے مذکرات پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا فریقین کو قائل کیا کہ کب تک لڑائی چلتی رہی گے۔افغان امن معاہدے کے تحت 14ماہ میں افواج کا انخلاءہوگا۔ پہلے 135دنوں میں غیرملکی افواج کی تعداد کم کوکر 8ہزار رہ جائیگی۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے معاہدہ کیا کہ ان کی سرزمین امریکا اور ان کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ افغان امن معاہدہ میں قیدیوں کی رہائی دو طرفہ ہوگی، طالبان کی رہائی کے ساتھ طالبان قید میں افراد کی بھی رہائی ہوگی۔  ناروے نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذکرات کی میزبانی کی آفر کی ہے۔طالبان پر پابندیوں کا ازسرنو  جائزہ لیاجائیگا۔اقوام متحدہ کی فہرست سے طالبان کے نام نکال لیاجائیگا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان افغان امن معاہدے کا نہ حصہ دار ہے نہ ہی ضامن بلکہ پاکستان، افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ہے۔ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کا معاہدہ ہوا، ماضی میں سویت یونین کے انخلاء سے خلا پیدا ہوئی جس سے پاکستان اور افغانستان پر اثر پڑھا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا ایران اور امریکا کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ہمارے ایران کے ساتھ الحمدلله اچھے تعلقات ہیں۔ ہم ایران اور امریکا کے مابین اچھے تعلقات استوار کرنے کےلئے تیار ہیں۔

Read Comments