پشاور:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ زندگی مقابلے کا نام ہے،اسپورٹس نہ کھیلتا تو 22سال پہلے شکست تسلیم کرچکا ہوتا،نوجوانو!ہارنے سے ڈرنا نہیں،چیمپئن ہارنے سے نہیں ڈرتا، ہارنے سے سیکھتا ہے، چیمپئن اگر ہار بھی جاتا ہے تو اپنی غلطی کی اصلاح کرکے دوبارہ مقابلہ کرتا ہے،کھیل مقابلہ کرنا سکھاتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں انڈر21گیمز کاافتتاح کردیا،اس موقع پر قیوم اسٹیڈیم میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیاجبکہ آسمان پر رنگ بکھر گئے، گورنر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی وزرا بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
وزیراعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈر 21 گیمز آرگنائز کرنے پر وزیراعلیٰ محمود خان کو مبارکباد دیتا ہوں اورتمام اتھلیٹس سے امید ہے کہ بھرپور مقابلہ کریں گے،ان گیمز سے پاکستان کا ٹیلنٹ اوپر آئے گا۔
عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کو اسپورٹس کی اہمیت بتانا چاہتا ہوں،اسپورٹس کا پہلا فائدہ انسان کی صحت پر ہوتا ہے، جب اسپورٹس کھیلتے ہیں اور جب مقابلہ کرتے ہیں تو صحت کو فائدہ پہنچتا ہے،یہ اسپورٹس کا سلسلہ یونین کونسل تک بڑھایا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے کھلاڑیوں کو فٹ رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ زندگی مقابلے کا نام ہے،پڑھائی میں ،کاروبار میں اور سیاست میں ہر جگہ مقابلہ ہے اورکھیل آپ کو مقابلہ کرنا سکھاتاہے،اپنے ملک کو اوپر اٹھانے کیلئے سیاست میں آئیں گے تو سیاست میں بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔
عمران خان نے مزیدکہا کہ مقابلے کا پرنسپل یہ ہے کہ چیمپئن ہارنے سے ڈرتا نہیں بلکہ ہارنے سے سیکھتا ہے،انسان تب ہارتا ہے جب ہار مان جاتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کااپنے خطاب میں کہنا تھا کہ چیمپئن کو ہار ہرا نہیں سکتی ،کوئی دنیا میں چیمپئن نہیں جو ہار کو سمجھتا نہ ہو،اگر میں اسپورٹس نہ کھیلتا تو 22 سال سیاست میں مقابلہ نہ کرسکتا،اگر مشکل وقت کا مقابلہ کرنا نہ سیکھا ہوتا تو ڈیڑھ سال میں پہلے ہی چھوڑ کر جاچکا ہوتا۔
عمران خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کا مقابلہ اونچ نیچ کا نام ہے، اوپر وہی پہنچتا ہے جو برے وقت سے گھبراتا نہیں گر کے انسان جب کھڑا ہوتا ہے تو پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے،قوم مشکل وقت کا مقابلہ کرتی ہے تو مزید مضبوط بن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری شخص کو اس وقت نقصان ہوتا ہے جب وہ کرپشن کرتا ہے،پاکستانی قوم نے انشا ءاللہ دنیا کی عظیم ترین قوم بننا ہے اور آپ لوگوں نے ہی عظیم ترین قوم بنانا ہے۔