جنوب ایشیائی ملکوں کی علاقائی تعاون تنظیم سارک کے رہنماؤں نے آج ویڈیو لنک کانفرنس کے ذریعے کورونا وائرس کی وبا پر قابوپانے کیلئے مربوط اور مشترکہ کوششیں کرنے پر زوردیا ہے۔
خطے میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد پیداہونے والی صورتحال پر غور کرتے ہوئے انہوں نے وبائی مرض سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پرتبادلہ خیال کیا ۔
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے رضا کارانہ ہنگامی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی جس میں بھارت ایک کروڑ ڈالر کا حصہ ڈالنے کے علاوہ سارک کے رکن ممالک کو طبی تربیت بھی فراہم کرے گا ۔
صحت کے بارے میں وزیراعظم کے خصوصی معاون ڈاکٹر ظفرمرزا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علاقائی ملکوں کو تکنیکی مشاورت اور وسائل کو متحرک کرنے کیلئے عالمی ادارہ صحت سمیت ماہر شراکت داروں سے معاونت حاصل کرنی چاہیے ۔
معاون خصوصی نے جنوبی ایشیائی ملکوں پر زوردیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے موثر اور غوروخوض پرمبنی جامع حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔
خصوصی معاون نے احتیاطی تدابیراختیار کرنے پر زوردیتے ہو نے خوف وہراس پھیلانے سے گریز کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے صحت کے عالمی قواعدوضوابط 2005کے مطابق عالمی وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاریوں کے سلسلے میں مشترکہ حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طورپر ان کوششوں کی نگرانی کررہے ہیں۔
خصوصی معاون نے پاکستان کی ردعمل کی حکمت عملی کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ اس حکمت عملی کے چار ستون ہیں جو کہ نظم ونسق اور سرمایہ کاری ، بچائو، خطرات کا تدارک اور روابط پرمشتمل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے تمام تعلیمی اداروں کو تین ہفتوں اور مغربی سرحدوں کو دو ہفتے کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی پروازوں کو صرف تین ہوائی اڈوں تک محدود اور تمام بڑے عوامی اجتماعات پرپابندی عائد کردی گئی ہے اور ہوائی اڈوں پراوردیگر سرگرمیوں میں اسکریننگ کے اقدامات کئے گئے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر اقبال مرزا نے کہا کہ کرونا وائرس کو ایک عالمگیر وباء قرار دیا گیا ہے تاہم عوامی صحت کے بروقت اور مناسب اقدامات کے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وائرس کے پھیلائو سے قبل ہی اس کی روک تھام کی کوششیں کررہا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ سارک سیکرٹریٹ علاقائی سطح پر تعاون کیلئے بہترین پلیٹ فارم ہے جسے صحت سے متعلق معلومات اور اعدادوشمار کے تبادلے کے علاوہ عالمی سطح پر اقدامات کیلئے تعاون کی غرض سے ایک ورکنگ گروپ کے قیام کا اختیار دیا جانا چاہئے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے فوری طور پر مقبوضہ علاقے میں لاک ڈائون ختم کرنے ، ذرائع مواصلات اور نقل وحرکت کی بحالی اور امدادی کوششوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
افغانستان کے ساتھ سرحدی کراسنگ بند کئے جانے پر افغان صدر اشرف غنی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ اقدام عارضی طور پر کیا ہے جس کا مقصد کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے رہنما اصولوں اور علاقائی ممالک کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کی روشنی میں اپنے سرحدی داخلی مقامات اور سرزمین کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔
انہوں نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور پاکستان کو افغانستان کی ضرویات کا احساس ہے اور کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی فراہمی کی اجازت ضروری جانچ پڑتال اور اسکریننگ کے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے دی جائے گی۔
انہوں نے کانفرنس میں مسئلہ کشمیر بھی اجاگر کردیا۔کورونا پر آواز تو اٹھائی لیکن ساتھ ہی دنیا کا ضمیربھی جنجھوڑا۔پاکستان نے مقبوضہ کشمیر پر دنیا کو واضح موقف پیش کیا۔