Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ،کیا آپ عدالت کو سکنیڈیلائز کرنا چاہتے ہیں،اس ہائیکورٹ کا کوئی جج بھی بلیک میل نہیں ہو سکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیس میں اکرم خان درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔
نیب کی جانب سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی سربمہر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ۔
چیف جسٹس نے پوچھا کیا کہ یہ فہرست سربمہر کیوں جمع کرائی گئی اسے پبلک کیوں نہیں کیا، اس سے نیب کی اہلیت ظاہر ہو رہی ہے، آپ نے اس فہرست میں جسٹس عامر فاروق کا نام کیوں ڈالا؟ کیا آپ ہائی کورٹ کو بلیک میں کرنا چاہتے ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیوں نہ ہم یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیں، نیب کیا سمجھتی ہیں کہ ہم کچھ چھپائیں گے،تفتیشی افسر بتائے کہ اگر ڈپٹی کمشنر کو گھر الاٹ ہوا تو اس میں کرائم کیا ہوا ہے،آپ جواب دیں کہ اس فہرست کو سربمہر کیوں رکھا گیا ہے،کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اکرم درانی کی ضمانت میں 8 اپریل تک توسیع کردی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے فہرست کو پبلک کرنے کی ہدایت کی ہے۔