وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو کروناوائرس سے نہ گھبرانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم کرونا سے مقابلہ کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں افراتفری سی پھیل رہی ہے۔15 جنوری کو ہم نے ایکشن لینے کا فیصلہ کیا۔ہمیں پتہ تھا کہ چین سے جب لوگ آئیں گے تو مسئلہ ہوگا۔
انہوں نے کہا یہ فلو بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔کورونا کے 97 فیصد کیسز ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ان میں 90 فیصد زیادہ خطرناک نہیں ہوتے۔صرف 4،5 فیصد مریضوں کو اسپتال جانا پڑتا ہے۔اب تک دنیا میں 1 لاکھ 90 ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں۔زیادہ عمر والے، بیمار، یا سینے کےانفیکشن والوں کےلئے یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ہم مسلسل چین کے ساتھ رابطے میں رہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایران میں قم میں کورونا پھیلا۔ہمارے زائرین اس وائرس سے متاثر ہوئے۔تافتان کی سرحد ایک ویرانہ ہے جہاں لاجسٹک پہنچانا بہت مشکل ہے۔بلوچستان حکومت اور پاک فوج کو داد دیتا ہوں۔میں پھر سے داد دیتا ہوں کیونکہ یہ ایک مشکل کام ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک ایئرپورٹ پر 9 لاکھ افراد کی اسکریننگ ہوچکی ہے۔پہلا کیس 26 فروری کو آیا۔ہمیں معلوم تھا کہ یہ وائرس پاکستان میں بھی پھیلے گا۔ہم نے 20 کیسز کے بعد نیشنل کمیٹی بنائی۔دنیا کے ردعمل کو بھی اسٹڈی کیا گیا۔اٹلی نے شروع میں کچھ نہیں کیا، جب کیسز بڑھنے لگے تو لاک ڈاؤن کردیا۔امریکا نے بھی شروع میں کچھ نہیں کیا، اب شہر بند کردیے۔
انہوں نے کہا 20 کیسز کے بعد شہروں کو بند کرنے کی رائے آئے۔پاکستان کے وہ حالات نہیں جو امریکا اور یورپ کے ہیں۔ہمارے 25 فیصد لوگ تو شدید غربت میں ہیں۔لوگوں میں بے روزگاری ہے، بڑے مشکل حالات ہیں۔ہم نے سوچا اگر شہر بند کردیتے ہیں تو ایک طرف سے کرونا سے بچائیں گے تو لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ جہاں پبلک جمع ہوسکتی ہے ان جگہوں کو بند کردیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہاہم نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی۔ہم نےاین ڈی ایم اےکوپیسےدیےاور ان کی باہر سے چیزیں لانے کی ڈیوٹی لگائی۔بیماری پھیلتی ہے تو4،5 فیصد لوگوں کو کورونا کا شدید اٹیک ہوگا۔جس کےلئے ہم نے وینٹرلیٹرز منگوانے کی ہدایت کردی۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ دیگر ممالک سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاذہن میں ڈال لیں کہ اس وائرس نےپھیلناہے۔ہم سےزیادہ بہتر میڈیکل سسٹم والے ممالک میں یہ پھیل رہاہے۔انسان کوشش کرسکتا ہے۔
وزیر اعظم خطاب میں کہا کہ ہم نے اکنامک کمیٹی بھی بنائی ہے۔دنیا میں تیل کی قیمتیں گر گئی ہیں، ٹریول انڈسٹری کا برا حال ہے۔پاکستان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بڑی دیر کے بعد ایکسپورٹس بڑھنی شروع ہوئی تھیں۔برآمدات اور کاروبار پر اثر پڑے گا۔یہ کمیٹی متاثرہ ایریازکی مددکرےگی۔آئی ایم ایف سےبھی بات کررہےہیں۔ہمیں ایکسپورٹرزکوبھی ریلیف دینا پڑےگا۔یہ کمیٹی مہنگائی پر بھی نظر رکھے گی۔
انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کوانتباہ کیا کہ مجھے خدشہ ہے کہ پھر چینی اور آٹے جیسی مہنگائی کی جائے گی۔ذخیرہ اندوزوں کےخلاف بڑا برا ردعمل آئے گا۔ریاست ذخیرہ اندوزوں کےخلاف کارروائی کرے گی۔جس نے عوام کی تکلیف سے فائدہ اٹھائی اسے سزا دیں گے۔بحیثیت قوم ہم نے یہ جنگ جیتی ہے۔
وزیر اعظم نے بڑے اجتماعات سے گریز کرنے کے متعلق زور دیتے ہوئے کہا بڑے اجتماعات سے گریز کرنا ہے۔ 40 سے زیادہ لوگوں کے اجتماع میں نہ جائیں۔بند کمروں میں بھی زیادہ لوگ جمع نہ ہوں۔ہاتھ ملانے سے وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ہر کھانسی اور نزلے والا ٹیسٹ کیلئے نہ بھاگا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ سب نےگھبرانا نہیں ہے۔سب کےلئےضروری ہےکہ احتیاط کریں۔انشاء اللہ ہم یہ جنگ جیتیں گے۔ہیلتھ ورکرز جہاد کررہے ہیں، ہم انکی مدد کریں گے۔
بیرونِ ملک پاکستانیوں کے متعلق وزیر اعظم نے کہابیرون ملک پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہے۔چین میں پھنسے طلباء کا بھی احساس ہے۔مجھے معلوم ہے کہ ان کےوالدین کو کسطرح وقت سے گزرنا پڑا۔چین میں کیسز کم ہورہے ہیں، انہیں زیادہ دن صبر نہیں کرناپڑےگا۔
وزیراعظم نے علماء سے درخواست کی علماء کو بھی لوگوں کو مسلسل آگاہ کرنا پڑے گا۔لوگوں کو بتانا ہوگا کہ اس مشکل وقت سے کیسے گزرنا پڑےگا۔