اسلام آباد ہائیکورٹ کا معمولی جرائم میں گرفتار قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2020 10:38am

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7سال سے کم سزا والے معمولی جرائم میں گرفتار قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے  اڈیالہ جیل کے قیدیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے چین میں وائرس اس وقت پھیلا جب قیدیوں میں ہوا،ایران نے تمام قیدی نکال دئیے ،خدانخواستہ یہاں کسی قیدی کوکورونا وائرس ہوگیا تو پھر قابو نہیں آئے گا، برطانیہ اور اٹلی جیسی غلطیاں نہ دہرائیں ، کرونا سے نمٹنے کیلئے تقلید کرنی ہوگی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے جیل کی حالت زار پر ریمارکس دیئے کہ جیل میں توصفائی ستھرائی کا برا حال ہے ،جب غیرضروری گرفتاریاں ہوتی ہیں تب ہی جیل کی گنجائش کم ہوتی ہے صوبائی حکومت سیکشن401 کے تحت سزا معطل کرکے قیدی کو ضمانت پر رہا کرسکتی ہے ۔

عدالت نے 7سال سے کم سزا والے معمولی جرائم میں گرفتار قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جو قیدی ضمانتی مچلکے نہیں دے سکتے ان کیلئے ڈپٹی کمشنر ایک آفیسر مقرر کریں ،اسکریننگ کے بغیر کسی کو بھی جیل جانے یا باہر آنے کی اجازت نہ دینے کو یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے واضح کیا کہ صرف ان قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جن کے باہرآنے سے خطرہ نہ ہو۔

 عدالت نے جیل میں قید 3سے 400بھکاری  اور آوارہ گردی کے الزام میں گرفتار قیدیوں کو بھی ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت کی۔

Read Comments