Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
وفاقی حکومت کی جانب سےلاک ڈاون نہ کیے جانے کے اعلان کےبعد حکومت سندھ نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کردیا ۔وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں اب بلا ضرورت کسی کو سڑک پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔وزیر اعلیٰ نے بجلی اور گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ایک ماہ کے بل نہ لینے کی ہدایت بھی کردی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نےکہاکہ لاک ڈاون کادورانیہ 15دن ہوگا۔اس دوران بلاضرورت نقل وحمل پرپابندی عائدہوگی۔ مساجد، دفاتر اورہر قسم کےعوامی اجتماع پرپابندی عائدہوگی۔تاہم اشیاء خوردونوش کی تمام دکانیں کھلی رہیں گی۔ ضرورت کےتحت نکلنےوالےہرشہری اپناشناختی کارڈساتھ رکھنالازمی ہوگا۔ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور کےساتھ ایک شخص کوسفرکرنےکی اجازت ہوگی۔اسپتال جانے والے شہری کوڈرائیورکےساتھ ایک شخص اور بیٹھانےکی اجازت ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نےکیسکو ، سیپکو ، کے ای اور ایس ایس جی سی کو ہدایت کی ہے کہ جن لوگوں کا بل پانچ ہزار روپے تک ہے اُن سے ایک ماہ کا بل نہ لیں اور اگلے 2 ماہ تک بلوں کی عدم ادائیگی پر کوئی کنیکشن منقطع نہیں کی جائے گا۔ سندھ میں کسی صنعت کوبندنہیں کیاجائےگا۔کارخانہ کھولنےکےلئےتمام احتیاطی تدابیرلازمی شرط ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ لاک ڈاون کےدروان یومیہ اجرت والوں کوراشن پہنچانےکی ذمہ داری ہماری ہوگی۔ذخیرہ اندوزی اورمہنگائی کرنےوالوں کوکسی صورت نہیں بخشاجائے گا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بینک سروسز بحال رکھنے کے لئے تمام بنکوں کو ضروری اسٹاف تعینات رکھنے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نےمخیرحضرات سےاپیل کی ہےکہ وہ حکومت سندھ کی مددکریں۔
Click to see more