Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
پچپن سال کے دوران پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی پانچ ہزارکیوبک میٹرسے کم ہوکرمحض آٹھ سو کیوبک میٹررہ گئی ہے۔ پانی کی قلت دور کرنے کے لیے پاک بھارت سندھ طاس معاہدے پرفوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔پانی کی دستیابی پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ہے۔پچپن برسوں میں ملک کی آبادی تو کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔لیکن پانی کی دستیابی پانچ ہزار کیوبک میٹر سے گھٹتے گھٹتے اب چند سو کیوبک میٹر رہ گئی ہے۔ارباب اختیار کو اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے جس میں سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی انتہائی ضروری ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان میں آنے والے تین مغربی دریاوٴں چناب، جہلم اوردریائے سندھ کا کنٹرول تو پاکستان کے پاس ہے لیکن بھارت اس پانی کو زراعت، ٹرانسپورٹ اور بجلی پیداکرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے تاہم معاہدے کے برخلاف بھارت نے بگلہار اور کشن گنگا ڈیم بنا لئے ہیں، اس بے ایمانی پرانڈس واٹرکمیشن بھی خاموش تماشائی بنا رہا۔پانی کی اس غیرمنصفانہ تقسیم سے پاکستان کوہر دوسرے سال خشک سالی اورپھرسیلابی ریلوں کی صورت میں تباہی کا سامنا ہے۔
پچپن سال کے دوران پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی پانچ ہزارکیوبک میٹرسے کم ہوکرمحض آٹھ سو کیوبک میٹررہ گئی ہے۔ پانی کی قلت دور کرنے کے لیے پاک بھارت سندھ طاس معاہدے پرفوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔
پانی کی دستیابی پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ہے۔پچپن برسوں میں ملک کی آبادی تو کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔لیکن پانی کی دستیابی پانچ ہزار کیوبک میٹر سے گھٹتے گھٹتے اب چند سو کیوبک میٹر رہ گئی ہے۔ارباب اختیار کو اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے جس میں سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی انتہائی ضروری ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان میں آنے والے تین مغربی دریاوٴں چناب، جہلم اوردریائے سندھ کا کنٹرول تو پاکستان کے پاس ہے لیکن بھارت اس پانی کو زراعت، ٹرانسپورٹ اور بجلی پیداکرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے تاہم معاہدے کے برخلاف بھارت نے بگلہار اور کشن گنگا ڈیم بنا لئے ہیں، اس بے ایمانی پرانڈس واٹرکمیشن بھی خاموش تماشائی بنا رہا۔
پانی کی اس غیرمنصفانہ تقسیم سے پاکستان کوہر دوسرے سال خشک سالی اورپھرسیلابی ریلوں کی صورت میں تباہی کا سامنا ہے۔