کورونا وائرس سے متعلق اقدامات پر مبنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2020 04:35pm

اسلام آباد:وزارت انسانی حقوق نے کورونا وائرس سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات پر مبنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، جس میں پنجاب ، سندھ، خیبرپختونخوااور بلوچستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

وزارت انسانی حقوق کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب  کی41 جیلوں میں32,477 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ 45,324قیدی موجود ہیں۔

سندھ کی24جیلوں میں 13,538قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 16,315، خیبرپختونخوا کی20 جیلوں میں4,519قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 9,900  اور بلوچستان کی جیلوں میں 2,585 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ 2,122قیدی رکھے گے ہیں۔

رپورٹ میں پنجاب کی جیلوں میں 90 ،خیبرپختونخو امیں 50 اور سندھ میں 23 بچوں کے قید ہونے کا بھی بتایا گیا ہےجبکہ پنجاب میں ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 298، سندھ میں50، کے پی میں 235 اور بلوچستان میں11 ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں 64 مرد اور 23 خواتین ڈاکٹرز موجود ہیں جبکہ 36 مرد اور 9 خواتین کی آسامیاں خالی ہیں۔

سندھ کی جیلوں میں 47 مرد اور 7 خواتین ڈاکٹرز موجود ہیں جبکہ 31 مرد اور 6 خواتین کی آسامیاں خالی ہیں جبکہ خیبرپختونخوااور بلوچستان میں آسامیاں خالی ہونے کے باجود ڈاکٹرز بھرتی نہیں کے جا سکتے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے پی میں یکم مارچ 2020 سے قبل پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر 3228 قیدی ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔

وزارت انسانی حقوق نے  تمام جیلوں میں کورونا وائرس سے آگاہی سے متعلق بینرز لگانے اور حفاظتی اقدامات جاری کرنے کا بھی بتایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن قیدیوں کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے انہیں باقی قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ کل بروز (پیر )کو قیدیوں کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔

Read Comments