اسلام آباد:سپریم کورٹ نے حکومت کوایک ماہ میں بارڈزپرایک ہزاربسترزپرمشتمل قرنطینہ سینٹرز بنانے اور مکمل فعال کرنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کورونا وائرس کے باعث اسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورونا کی وبا سے لڑنے کیلئے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے،تافتان، چمن، طور خم کے مقام پر فوری طور پر قرنطینہ بنایا جائے ،یہ وبا ءبارڈز اوران داخلی راستوں سے آئی ہے،حکومت ان داخلی راستوں پرقرنطینہ سینٹربنانے میں ناکام رہی،ان کورنٹائین سینٹرزپرہزارلوگوں کی گنجائش رکھی جائےاورکورنٹائین سینٹرزمیں ایمرجنسی میڈیکل سینٹرز بنائے جائیں جن میں اعلاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔
جسٹس گلزاراحمد کا کہنا تھا کہ حکومت مسائل کیا حل کرے گی،حکومت کوآٹے اورچینی کا ہی مسئلہ بنا ہوا ہے،حکومت اپنے لئے نئے نئے مسائل کیوں پیدا کررہی؟۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو ایک ماہ میں بارڈز پر کورنٹین سینٹرزبنانے اورمکمل فعال کریں ایک ماہ میں حکومت عدالت میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائے،اگر عدالتی حکم پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کاروائی کی جائے گی۔
عدالت نے حکومت کو ملک بھرکے ڈاکٹرزکوکرونا وائرس سے بچاؤکیلئے حفاظتی کٹس فوری طور فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرزکوکنٹریکٹ کی بجائے مستقل طورپربھرتی کی کیا جائے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو احساس پروگرام میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی عوام کا پیسہ ہے مستحق لوگوں تک پہنچنا چاہیے،،تاکہ غریب عوام اچھی زندگی گزار سکے۔
سپریم کورٹ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر حکومت سے بریفنگ طلب کر لی۔
بریفنگ ڈاکٹر ظفر مرزا، چیئرمین این ڈی ایم اے، سربراہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی اور اٹارنی جنرل کی جانب سے کل دن 12بجے ان چیمبر دی جائے گی۔