Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں ورکرزویلفیئربورڈ کے پی کے کی درخواست پرسماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کونظرانداز کرنا کوئی اچھا عمل نہیں، ہم کوئی آبزرویشن دینا نہیں چاہتے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 3رکنی بینچ نے پشاورہائیکورٹ کیخلاف ورکرزویلفیئر بورڈ کے پی کے کی درخواست پرسماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے ہائیکورٹ کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں زیرسماعت ہونے کا بتایا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت ہائیکورٹ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کومدنظررکھنے کی مجازہے۔
عدالت نے کہاکہ سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں کو مدنظررکھ کرہائیکورٹ فیصلہ کرےگی، بظاہرلگتا ہے ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کونظراندازکیا ہے۔
چیف جسٹس نے رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کے جواب کو غیرتسلی بخش قراردیا اورکہاکہ وکیل ورکرزویلفیئر بورڈ نے موقف اپنایا ہائیکورٹ سپریم کورٹ کے فیصلوں کونظراندازکررہی ہے عدالت میں ہائیکورٹ سے متعلق ایسے دلائل پیش کیے جائیں توان کا جائزہ لینا ضروری ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کونظرانداز کرنا کوئی اچھا عمل نہیں، ہم کوئی آبزرویشن دینا نہیں چاہتے۔
سپریم کورٹ نے ورکرزویلفیئربورڈ کی درخواست پرفیصلہ آنے تک پشاورہائیکورٹ کو سماعت سے روک دیا ، تمام اپیلیں جلد سماعت کیلئے مقررکرنے کا حکم بھی دیا۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔