مساجد و امام بارگاہوں میں رمضان میں عبادات کےلئے مشروط اجازت

اپ ڈیٹ 18 اپريل 2020 11:11am

مساجدو امام بارگاہوں رمضان المبارک میں عبادات کےلئے مشروط اجازت دےدی گئی۔صدر مملکت عارف علوی کہتے ہیں اس سال رمضان میں ایک پالیسی بنائی جانی ضروری ہے۔ علماء سے20 نکات پر اتفاق کیاگیاہے۔تمام چیف منسٹرز،گورنرز اور علما کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

صدرمملکت عارف علوی نے علماءومشائخ کےاجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہااس وقت ملک کی موجودہ کورونا کی صورتحال سے سب آگاہ ہیں۔زکوۃ اور خیرات کو رمضان میں جاری رکھا جائے۔ماہ رمضان کےلئے احتیاطی تدابیر کا لائحہ عمل طےہوگیا۔رمضان میں مقبوضہ کشمیر کےمسلمانوں کیلئےدعا کی جائے۔

انہوں نے کہا موجودہ صورتحال میں قوم میں اتفاق رائےانتہائی ضروری ہے۔ضروری تھا کہ ملک بھر سے علماء کے مشورے آجائیں۔اب یہ ذمےداری صرف آئمہ یاحکومت کی نہیں بلکہ ہرفرد کی ہے۔ماہ رمضان کےلئے احتیاطی تدابیر کا لائحہ عمل طےہوگیا۔

انہوں نے کہا مساجد اورامام بارگاہوں میں قالین نہیں بچھایاجائےگا۔فرش پر نماز پڑھی جائےگی۔نماز سےپہلے اور بعد میں مجمع سےگریز کیاجائےگا۔جس مساجد میں صحن ہے وہاں نماز پڑھائی جائے۔لائحہ عمل پر عمل کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

صدر مملکت نے کہا مسجد کےاحاطے میں نماز تراویح کا اہتمام کیاجائے۔مسجد کےفرش کو کلورین سےصاف کیا جائے۔نمازیوں کےدرمیان6فٹ کا فاصلہ ہو۔بچے،بزرگ،کھانسی نزلہ زکام کےمریض مساجد میں نہ آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔وضو گھر سے کرکے مسجد تشریف لائیں۔ماسک پہن کر مساجد،امام،بارگاہوں میں آئیں،کسی سےہاتھ نہ ملائیں۔گھروں کےاندر تراویح پڑھیں تو وہ بھی اچھا ہے۔سحر و افطار کا اجتماعی انتظام نہ کیاجائے۔

صدر عارف علوی نے مزید کہامسجد انتظامیہ صوبائی حکومت اور پولیس سےتعاون رکھے۔مسجد انتظامیہ کو احتیاطی تدابیر کےساتھ تراویح،نمازجمعہ کی اجازت ہے۔اگر کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ گئی ہے تو فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔مساجد میں عبادات کی اجازت احتیاطی تدابیر سےمشروط ہے۔

Read Comments