زکوٰة فنڈز کی رقوم کی ادائیگی کا معاملہ: وفاق اور صوبوں سے رپورٹ طلب

شائع 20 اپريل 2020 10:28am

سپریم کورٹ نےزکوٰة فنڈز کی رقوم کی ادائیگی میں شفافیت اور کورنا وائرس پرپیشرفت سےمتعلق تمام صوبوں اور وفاق سے رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کھربوں روپے خرچ ہو چکے اور مریض صرف پانچ ہزار ہیں۔سندھ حکومت چھوٹا سا کام کرکےاخباروں میں تصویریں لگواتی ہے، کسی کوعلم نہیں ہوا سندھ حکومت نے ایک ارب کا راشن بانٹ دیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربینچ نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت  کی۔

چیف جسٹس نےاستفسار کیا کہ محکمہ زکوٰۃ نے کوئی معلومات نہیں دیں۔

اٹارنی جنرل خالد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت زکوٰۃ فنڈ صوبوں کو دیتی ہے۔ صوبائی حکومتیں زکوٰۃ مستحقین تک نہیں پہنچاتیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کام میں شفافیت نہیں۔زکوۃ کے پیسے سے دفتری امورنہیں چلائے جا سکتے۔سمجھ نہیں آتا اوقاف اوربیت المال کا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔حکومت پیسے خرچ کررہی ہےلیکن نظر کچھ نہیں آرہا۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نےعدالت کو بتایا کہ فی کس 6 ہزار روپے زکوة دی گئی۔ فراہم کردہ  تمام معلومات درست ہیں۔ صبح چار سے سات بجے تک گھرگھرراشن تقسیم کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیےکہ سندھ حکومت چھوٹا سا کام کرکےاخباروں میں تصویریں لگواتی ہے۔ کسی کوعلم نہیں ہوا سندھ حکومت نے ایک ارب کا راشن بانٹ دیا۔عدالت نےصوبوں اوروفاق سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کےلئے ملتوی کر دی۔

Read Comments