نیب نےشاہدخاقان عباسی کوایل این جی کیس میں سوالنامہ دے دیا

اپ ڈیٹ 14 مئ 2020 09:56am

اسلام آباد:قومی احتساب بیورو(نیب )نے  مسلم لیگ ن کے رہنماء شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی کیس میں سوالنامہ دے دیا، ٹیکس،بینک اکاؤنٹس کیس کی تفصیل اور اہلخانہ کے اثاثوں کا ریکارڈ  مانگ لیا۔

نیب راولپنڈی کے نوٹس پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نیب دفتر پیش ہوئے اور ایل این جی کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شاہد خاقان عباسی کو سوالنامہ دے دیا جس میں ضمنی ریفرنس کیلئے اکٹھے کیے گئے شواہد پر سوال پوچھے گئے۔

سوالنامے میں پوچھا گیا کہ اکاؤنٹ میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کس مد میں ہوئیں؟  ٹرانزیکشنز ایل این جی معاہدوں کے دوران ہوئیں ؟ جسمانی ریمانڈ کے دوران جن سوالات کے جواب نہیں دیئے گئے وہ بھی دیں۔

نیب نے ایل این جی کیس میں عبوری ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر رکھا ہے،ایل این جی ریفرنس اختیارات کے غلط استعمال پر بنایا گیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب نے سوالنامہ دیا ہے جس کا تحریری جواب دوں گا،نیب نے اثاثوں سے متعلق سوالات کئے ہیں،  سوالات جوابات اور پیشیوں کا سلسلہ جاری ہے،20 سال سے نیب کا گاہک ہوں،چیئرمین نیب اجلاس بلائیں گے اور پھر مجھے گرفتار کروادیں گے۔

سابق وزیراعظم کا  مزید کہنا تھا کہ نیب قانون کا مسودہ حکومت کو دے دیا ہے،احتساب کو نہیں خامیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، نیب نے اب بچوں اور بہو کو بھی نوٹس بھیج دیا ہے۔

Read Comments