کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو حجام کی دکانیں کھولنے کیلئے نظرثانی کی ہدایت کردی۔
سندھ ہائیکورٹ میں لاک ڈاون کے دوران چھوٹے دکانداروں کوکاروبار کی اجازات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
جس میں عدالت نے سندھ حکومت کو باربر شاپس (حجام )کی دکانیں کھولنے کیلئے نظر ثانی کی ہدایت کردی۔
دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہرنے استفسار کیا کہ جب چھوٹی بڑی مارکیٹوں کو کھول دیا گیا تو حجام کی دکان کیوں بند ہیں؟ حجام کی دکانیں بند رکھی جارہی ہیں تو لوگ عید پر بال کیسے کٹائیں گے؟ ۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ حجام کی دکانیں کھولنے کیلئے بھی ایس او پیز بنادیں،عملدر آمد نہیں ہوگا تو بند کرسکتے ہیں۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے چھوٹی بڑی مارکیٹس کھول دی ہیں لیکن بیوٹی پارلرز اورباربرز کی دوکانیں بند رکھی جارہی ہیں، ماہرین صحت سے مشاورت کے بعد نائی کی دکانیں کھولنے کیلئے سوچا سکتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے پوچھا کہ باقی مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں تو حجام اور بیوٹی پارلرز کیوں نہیں کھول سکتے؟۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیرونے مزید کہا کہ حجام کی دوکانوں اوربیوٹی پارلرز سے کورونا پھیلنے کا زیادہ خدشہ ہے، حجام اور بیوٹی پارلرز ہوم سروس فراہم کرسکتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہرنے کہاکہ حجام اور بیوٹی پارلر کے بھی ایس او پی بنا دیں اگر عملدرآمد نہیں کریں گے تو دوبارہ بند کیا جاسکتا ہے،بعدازاں عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہم غریبوں اور ضرورت مند کاروباری طبقے کی دکانیں کھولنے کی بات کررہے ہیں۔