ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کاٹرائل5سال بعد مکمل ،فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020 04:39pm

اسلام آباد:انسدا دہشتگردی کی ایک عدالت نے ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کا ٹرائل 5سال بعد مکمل   ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 18جون کو سنایا جائے گا ۔

انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج شاہ رُخ ارجمند نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے ایف آئی اے پراسیکیوٹرکے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ،جوآئندہ ماہ 18جون کوسنایا جائے گا ۔

 ایف آئی اے پراسیکیوٹرخواجہ امتیازاحمد نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اشتہاری ملزمان بانی متحدہ اورانورحسین کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں ،قانون کے مطابق پاکستان میں کیس چلانے کی اجازت ہے ۔

برطانوی حکومت کو ہمارے شواہد پر نہیں صرف سزائے موت پراعتراض تھا ،پاکستان نے برطانوی حکومت کویقین دلایا کہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کوسزائے موت نہیں دی جائے گی۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے  اور بانی متحدہ کی پاکستان میں منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے ۔

فاضل جج کا کہنا تھا کہ عدالت یہ حکم پہلے ہی دے چکی ہے آپ ضبط کرنے کی کارروائی شروع کریں۔

Read Comments