لاہورہائیکورٹ نے قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی 17جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے ملزم شہبازشریف کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دےدیاجبکہ نیب نے نو جون کو شہبازشریف کو دوبارہ طلب کرلیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔شہبازشریف کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ درخواستگزار شہباز شریف کہاں ہیں۔کیا آپ کو گرفتاری کا خدشہ ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ شہباز شریف کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔نیب نے جو جو ریکارڈ مانگا وہ دے دیا پھر بھی نیب گرفتاری کے لئے بے تاب ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس کس اسٹیج پر ہے۔کیا نیب شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے۔
شہبازشریف کے وکیل نے بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس انوسٹی گیشن کی اسٹیج پر ہے۔نیب شہباز شریف کی ضمانت کی مخالفت کرے گا۔ شہباز شریف کو دو جون کےلئے طلب کیا گیا لیکن وارنٹ 28 مئی کے تھے۔
عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ جب وارنٹ پہلے نکلے تو آپ نے دو جون کو کیوں بلایا۔
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب نیب کے پاس گرفتاری کا مواد آیا تب شہباز شریف کے وارنٹ جاری کیے گئے۔
لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے عبوری ضمانت 17جون تک منظور کرلی۔ عدالت نے ملزم شہباز شریف کو پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق نیب نے مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کو آمدن سے زائد جات اور منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کےلئے نوجون کو دوبارہ طلب کرلیا ہے۔