Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
پاکستان اسٹیل مل نے 8884 ملازمین میں سے 7884 ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سپریم کورٹ سے پاکستان اسٹیل مل کا چیف ایگزیکٹو آفیسر فوری تعینات کرنے کی استدعا کردی گئی۔پاکستان اسٹیل مل کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ ملازمین رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔
اسٹیل مل ملازمین کیس میں پاکستان اسٹیل مل نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں استدعا کی ہے کہ پاکستان اسٹیل مل کے چیف ایگزیکٹو آفیسرکوفوری تعینات کیا جائے۔پولیس اور رینجرز کی مدد سے اسٹیل ٹاون کو قابضین سے خالی کروایا جائے اور پاکستان اسٹیل مل کےخلاف حکم امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام مقدمات کا دو ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔آٹھ ہزار 884 ملازمین میں سے سات ہزار 884 ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کوبتایا گیا ہے کہ 2008 سے پاکستان اسٹیل مسلسل خسارے میں رہی ہے۔2015 کو پاکستان اسٹیل مل کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔مل بند ہونے کے وقت ٹوٹل 15000 ملازمین تھے۔ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کےلئے 229 ارب روپے قرضہ لیا گیا۔
پاکستان اسٹیل مل نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل مل کے سائز کے مطابق 500 سے 1000 ملازمین سے زائد نہیں رکھے جا سکتے۔ملازمین کی تنخواہوں پر 30 ارب روپے لگائے جاچکے۔ملازمین کی ریٹائرمنٹ سمیت دیگربقایا جات 40 ارب روپے ہیں۔حکومت 2008 سے اب تک 92 ارب روپے پاکستان اسٹیل مل ادا کرچکی۔
سپریم کورٹ میں 29 مقدمات سمیت مختلف عدالتوں اورٹربیونلز میں 671 مقدمات زیر التوا ہیں۔پاکستان اسٹیل مل ملازمین کیس کی سماعت 9 جون کوسپریم کورٹ میں ہوگی۔