پاکستان اسٹیل ملز جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مل ملک کی معیشت کےلئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی لیکن کرپشن اور سیاسی بھرتیوں کے بعد یہ ادارہ اپنی موت آپ مر چکا ہے اور اب اپنی تدفین کا منتظر ہے۔
پاکستان اسٹیل ملز کا افتتاح2 جولائی1973 کو ہوا، لیکن آج صرف 46 برس کی عمر میں انتقال کرچکا ہے۔
سابق سوویت یونین کی مدد سے بننے والےاسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت پانچ ملین ٹن کے قریب تھی۔تین لاکھ تیس ہزار ٹن کی ہیوی مشینری رکھنے والی اسٹیلز ملز کو ہر دور میں سیاسی بھرتیوں کےلئے استعمال کیا گیا۔
نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک کرپشن نے ملز کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا۔
دو ہزار چار سے دو ہزار سات میں پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اسٹیل ملز کی متنازع نجکاری کی کوشش کی جسے سپریم کورٹ نے روک دیا تھا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب اپنے انتہائی وسیع و عریض حجم کے باوجود اسٹیل ملز اپنی پیداواری صلاحیت کا صرف 18فیصد پروڈکشن کر رہی تھی۔
بی بی سی کے مطابق 2009میں اسٹیل ملز میں 22ارب روپے کی کرپشن کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا۔
اس سے قبل اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسٹیل ملز کے چیئرمین آفتاب معین کو برطرف کیاجنہیں ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔
ایف آئی اے کے مطابق سپریم کورٹ کو پیش کردی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین معین آفتاب کے دور میں آسٹریلیا سے کوئلہ خریدا گیا۔
اس ایک ڈیل میں اسٹیل ملز کو ساڑھے تین ارب روپے کا نقصان ہوا۔معین آفتاب کا دور 26مئی 2008سے اگست 2009تک کا ہے۔
صرف اُس دور میں 22ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔کینٹین کے ٹھیکے ہوں یا کوئلے کی خریداری ہر شعبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن سامنے آتی رہی۔جنوری 2010میں ملز کے دو افسران سمیت 3 افراد کو ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا۔
ان میں اسٹیل مل کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈیر عبدالقیوم ریٹائرڈ، محمد عتیق اور نوبل ریسورس کمپنی کے اہلکار کیپٹن رشید ابڑو شامل تھے۔عبدالقیوم اور محمد عتیق پر کینٹین کے ٹھیکے من پسند کمپنیوں کو دیکر 12کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا۔
رشید ابڑو پر الزام تھا کہ وہ اسٹیل ملز کو مہنگے داموں کوئلے کی فروخت میں شامل رہے۔یہ تو کرپشن کی ایک معمولی سے کہانی ہے۔
اصل کرپشن سیاسی تقرریوں کی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بھرتی کیا گیاجنہوں نے کام کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
تنخواہ اور اوور ٹائم کی مدد میں لاکھوں روپے کمائے،میڈیکل کی مد میں بھی ادارے کو سالانہ کروڑوں روپے کی کرپشن کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ٹی آئی شروع سے ہی پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی مخالفت کرتی رہی ہے۔پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر انہیں حکومت مل گئی تو وہ دنیا بھر سے ماہرین لاکر اسٹیل ملز کو چلا کر دکھائیں گےلیکن اب تحریک انصاف کی حکومت ہے
اور اس نے خسارے میں چلنے والی ملز کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وفاقی حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبائی حکومت کی منظوری کے بغیر اسٹیل ملز کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی ساڑھے انیس ہزار ایکڑ زمین کی مالیت ہی اربوں کھربوں بنتی ہے۔
اہم بات یہ ہے اسٹیل ملز کو خسارے کا شکار کرنے والے ہر شخص، ادارے یا ذمہ داروں کا ناصرف تعین کیا جانا چاہیئے
بلکہ انہیں سزائیں بھی دی جانی چاہئیں۔اور ایسا نظام وضع کرنا چاہیئے کہ آئندہ کوئی بھی سرکاری ادارہ تباہی سے دوچار نہ ہو۔