اسلام آباد:چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے ملازمین کی سروس مستقلی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے، ریلوے میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے ریلویز ملازمین کی سروس مستقلی کے حوالے سے دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کی،اس سلسلے میں سیکرٹری ریلوے عدالت میں پیش ہوئے۔
سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ٹی ایل اے میں 2712 ملازمین ہیں، جن کو تنخواہ لوکل گورنمنٹ دیتی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تو پھر یہ ملازمین ریلوے کے کیسے ہوئے؟۔
چیف جسٹس نے سیکرٹری ریلوے کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دورمیں ریلوے کے کتنے حادثے ہوئے ہیں،آپ سے ریلوے نہیں چل رہی ہے، چھوڑ دیں ریلوے ،آج سے آپ سیکرٹری ریلوے نہیں ہیں، آپ کے انجن اور ڈبے چل ہی نہیں رہے ہیں، پرسوں جونقصان ہوا بتا دیں اس کی ذمہ داری کس کی ہے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس پرسیکرٹری ریلوےنے کہا کہ میں فیڈرل ایمپائرہوں،کہیں اورچلا جاؤں گا۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹریمیا جہازکا حادثہ کوئی مذاق نہیں، 6 ماہ میں کتنے حادثے ہوئے اور کتنا نقصان ہوا، آپ سمجھتے ہیں کرسی میں بیٹھ کر کام کریں، فیلڈ پرجا کراپنے ملازمین کو دیکھیں، ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی جاتی ہیں، حکومت آپ کو آئے دن 50 ملین گرانٹ دیتی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریلوے میں ٹوٹل کتنے ملازمین ہیں، اس پر سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ 76 ہزارملازمین ہیں، 142 مسافر ٹرینیں اور 120 گڈز ٹرینیں چل رہی ہیں، اس وقت کرونا کی وجہ سے 43 مسافر ٹرینیں فعال ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ نے 76 ہزار ملازمین رکھے ہیں ریلوےکا نظام چلانے کیلئے تو 10 ہزارکافی ہیں، آپ کی ساری فیکٹریاں اور کام بند پڑا ہوا ہے تو یہ ملازمین کیا کر رہے ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریلوے کے کمپیوٹرز پر ڈسٹ پڑا ہوا ہے، پریس میں آرہا ہے کہ وزیراعظم ریلوے میں کوئی ریفارم کررہے ہیں،جس پر سیکرٹری ریلوےنے بتایا کہ 6 پواینٹس پرریفارم کررہے ہیں۔
سیکرٹری ریلوے نے 76 ہزارملازمین کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا ہی موجود نہ ہونے کا مؤقف اپنایا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے تقریر نہ کریں ہمیں سب پتہ ہے ریلوے میں کیا ہو رہا ہے،ریلوے میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ ریلوے کا پوار محکمہ اتنا کرپٹ ہے کہ سوچ بھی نہیں سکتے ،76 ہزار ملازمین سے ریلوے کبھی منافع نہیں دے سکتی۔
عدالت نے فوری اصلاحاتی عمل شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں ریلوے ملازمین اور آپریشن سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔