چونتیس کھرب سینتیس ارب خسارے کا بجٹ پیش

شائع 12 جون 2020 03:05pm

 

آئندہ مالی سال کے لئے چونتیس کھرب سینتیس ارب  خسارے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔

آئندہ مالی سال کیلئے چونتیس کھرب سینتیس ارب کا خسارے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔ بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا گیا۔ بجٹ میں کل آمدنی کا تخمینہ چھ ہزار پانچ سو تہتر ارب اور اخراجات کا اندازہ سات ہزار ایک سو سینتیس ارب روپے ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 21-2020کا وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا، وفاقی وزیر حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا ۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا،جہاں آئندہ مالی سال 21-2020کا وفاقی بجٹ پیش وفاقی وزیر حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا۔

وزیراعظم عمران خان بھی بجٹ اجلاس میں پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔

 ۔قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا اعزاز ہے، 2سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ رہنما اصول رہا، شرح نمو میں بہتری کیلئے ہر ممکن اقدام کیا ،2018میں جب حکومت آئی تو معاشی بحرام ورثے میں ملا، ملکی قرضے 31000 ارب بلند سطح پر تھے۔

حماد اظہر نے کہا کہ 5 سال کے دوران برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا،منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ،ہمارے فیصلوں سے معیشت کو استحکام ملا، مالی سال کے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 فیصد کم ہوگیا، جاری کھاتوں کا خسارہ 3 ارب ڈالر پرآگیا، بجٹ خسارہ 3.8فیصد رہ گیا، ایف بی آر کی آمدنی میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے  6 ارب ڈالر غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کی ، 2 سال میں 5 ہزار ارب روپے کا قرضہ ادا کیا، اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر قرضہ دیا، بلوم برگ نے پی ایس ایکس کو دنیا کی 10 ٹاپ مارکیٹس میں شمار کیا، ایکس چینج ریٹ کو مارکیٹ مکینزم سے منسلک کیا، میک ان پاکستان کے تحت پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرایا۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی ناقابل برداشت تھی، پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئیں، سرکاری اداروں میں کفایت شعاری کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دی ہے،کمیٹی نے 45سرکاری اداروں کی نجکاری کی سفارش کی ہے، آر ایل این جی پلانٹس کی بحالی کیلئے اقدامات کئے، تجارتی خسارے میں 31 فیصد کمی لائے، کاروبار لاگت کم کرنے کیلئے اقدامات کئے، ایز آف ڈوئنگ بزنس میں پاکستان 108 ویں نمبر پر آگیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس کے معاشی اثرات سامنے آرہے ہیں،  کورونا سے بچاؤ کیلئے طویل لاک ڈاؤن کاروبار کی بندش سے معاشی سرگرمیان ماند پڑگئیں، جی ڈی پی پر منفی اثرات مرتب ہوئے، رواں مالی سال کورونا سے 3300ارب روپے کی کمی ہوئی، جی ڈی پی کی شرح نمو  منفی 0.4 فیصد رہ گئی، کورونا کے تدارک کیلئے 1200ارب سے زائد پیکج کی منظوری دی ہے، 800ارب وفاقی بجٹ سے فراہم کئے گئے، 100ارب روپے ایف بی آر اور وزارت تجارت کیلئے مختص تھے۔

حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے کاروبار کیلئے خصوصی پیکج دیا گیا، کسانوں کو سستی کھاد اور دیگر کاموں کیلئے 50 ارب روپے سبسڈی دی گئی، گندم کی خریداری کیلئے 280 ارب روپے فراہم کئے گئے، معیشت کی بحالی کیلئے تعمیراتی شعبے کو ریلیف دیا، لاک ڈاؤن کے برے اثرات کے ازالے کیلئے شرح سود میں کمی کی گئی، شرح سود میں 5.25 فیصد کمی کی گئی، بینکوں کو 800ارب روپےاضافی قرضہ دینے کی اجازت دی گئی ہے، طویل المدت قرضوں کی شرائط میں نرمی کی گئی ہے۔

بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر بجٹ تشکیل دیاگیا ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، بجٹ میں تجاویز معاشی سرگرمیاں تیز کرنے میں مدد دیں گی، کورونا کے پیش نظر آئندہ سال بھی عوام کی مدد جاری رہے گی، بجٹ میں دفاع کو خاص اہمیت دی گئی ہے، کفایت شعاری کو یقینی بنایا جائے گا، این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی جائے گی، کل آمدنی کا تخمینہ 6500 ارب روپے ہے ،ایف بی آر کا ہدف 4963ارب روپے ہے، این ایف سی کے تحت 2874 ارب صوبوں کو دیئے جائیں گے،کل اخراجات کا تخمینہ  7137 ارب روپے ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ احساس پروگرام کیلئے 208 ارب روپے مختص کئے ہیں، سبسڈیز کیلئے 180 ارب روپے مختص کئے ہیں، اعلیٰ تعلیم کیلئے 64ارب روپے مختص کئے ہیں، سندھ کو 19 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ دی جائے گی، لاہور اور کراچی کے اسپتالوں کیلئے 13ارب روپے مختص کئے ہیں، تمام وزارتوں کو الیکٹرانک طور پر منسلک کرنے کیلئے 1 ارب روپے مختص کئے ہیں، آرٹسٹ ویلفئیر فنڈ کیلئے 1 ارب روپے مختص کئے ہیں، ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے 10 ارب روپے مختص کئے ہیں، جی ڈی پی کو بڑھا کر 2.1فیصد پر لایا جائے گا، افراط زر 6.5 فیصد تک لایا جائے گا، ایف ڈی آئی میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

Read Comments