تحفظ نسواں ایکٹ:دینی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا

شائع 14 مارچ 2016 05:17pm

اسلام آباد:تحفظ نسواں ایکٹ کی منسوخی کیلئے حکومت پر دباوٴ بڑھانے کیلئے دینی جماعتوں کا ہنگامی سربراہی اجلاس کل جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ہو گا۔

خواتین پر تشدد کے خاتمے سے متعلق ایکٹ پر مولانا فضل الرحمن نے شاید سب سے پہلے تنقید کا دروازہ کھولا، جن کی چوکھٹ پر بعد ازاں تمام مکاتب فکر کے علما اکھٹے ہوئے اور نوبت کل جماعتی کانفرنس بلانے تک جا پہنچی۔ مولانا فضل الرحمن نے معاملے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے کانفرنس سے قبل ہی وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کی اور انہیں ایکٹ پر نظرثانی کیلئے آمادہ کر لیا۔

سراج الحق، مولانا سمیع الحق اور دیگر مذہبی رہنماء پہلے ہی اپنا موٴقف دے چکے ہیں کہ ایکٹ میں ترامیم یا نظرثانی کے حوالے سے حکومتی رہنماوٴں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ مختلف مشاورتی اجلاسوں میں بھی فیصلہ ہوا کہ ایکٹ کی منسوخی کے موٴقف سے کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

مولانا فضل الرحمن نے تو دینی جماعتوں کی طرف سے کوئی انتہائی قدم اٹھنے سے پہلے حکومت کو اس قانون پرنظرثانی کیلئے قائل تو کر لیا، مگر دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی میزبانی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں دیگر علماء اکرام مولانا کے موٴقف سے اتفاق کرتے ہیں یا الگ راستہ اختیار کریں گے۔

Read Comments