دینی جماعتوں کاتحفظ نسواں ایکٹ کی فوری منسوخی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2016 05:52pm

منصورہ:جماعت اسلامی کے زیر اہتمام تحفظ نسواں ایکٹ کی منظوری کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں تمام جماعتوں کے رہنماوٴں نے ایکٹ کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا، لیکن مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا مشورہ دیا۔

حقوق نسواں ایکٹ کی مخالفت میں منصورہ میں ہونے والی اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ قانون عوام کے ساتھ نا انصافیوں اور شرح طلاق میں اضافے کا سبب بنے گا۔ یہ ایکٹ خاندانی وحدت کو توڑنے اور فیملی سسٹم کو تباہ کرنے کا ذریعہ ثابت ہو گا۔ امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق نے اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور علمائے اکرام کے مشورے سے قرآن و سنت کی روشنی میں نیا بل لایا جائے۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مشترکہ اعلامیہ کی منظوری کے باوجود تجویز دی کہ اس ایکٹ کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے جائیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کی کسی یقین دہانی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طالبان سے مذاکرات آخری مراحل میں تھے تو یہ معاملہ ختم کردیا گیا۔ وزیراعظم نے انیس سو بانوے میں شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا لیکن عملی طور پر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ستائیس مارچ تک پنجاب حکومت متنازعہ بل واپس لے ورنہ آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے علماء و مشائخ کانفرنس دو اپریل کو اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔

Read Comments