جیسے جیسے زمانہ جدید ہوتا جارہا ہے ویسے ہی مارکیٹ میں نت نئے قسم کے فیشل آتے جارہے ہیں۔ مغربی ممالک میں کئی ایسے فیشلز متعارف ہوگئے ہیں جن کو آزمانے کے لیے انسان میں ہمت کا ہونا بہت ضروری ہے۔
دنیا کا کوئی بھی حصہ ہو، آیا وہ مغربی حصہ ہویا مشرقی خواتین جہاں بھی رہتی ہیں اپنے بناو¿ سنگھار کی طرف خاص توجہ دیتی ہیں۔ اگر بناو¿ سنگھار کی بات کی جائے تو سب سے پہلے میک اپ کانمبر آتا ہے ،کیونکہ جب تک چہرے سے خوبصورتی نہیں چھلکے گی ا±س وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لہٰذا خوبصورت نظرا ٓ نے کے لیے خواتین ہر طرح کے جتن کرتی ہیں۔ فیشل، مساج، ماسک، بلیچ، فیس وائٹنگ کریمیں یہ تمام وہ حربے ہیں جوخواتین اپنے چہروں پر آزماتی ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسی رپورٹ منظر عام پر آئی ہیں، جس کے مطابق لندن میں خواتین کچھ عجیب وغریب طریقوں سے فیشل کروارہی ہیں۔ اس فیشل کودیکھنے والے کادل بھی گھبرانے لگتا ہے۔
گھونگھوں کافیشل
گھونگھارینگنے والا ایک چھوٹا ساجاندار ہے جوعموماََ پانی میں پایا جاتا ہے۔ شائد آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ گھونگھے کوفیشل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بات سچ ہے۔عجیب وغریب فیشل جاپان میں بہت مشہور ہے۔ اس طریقہ فیشل میں تین چار گھونگھوں کو چہرے پر پھسلایا جاتا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ میں بھی کچھ مقامات پر گھونگھوں کے فیشل کے پارلر کھولے گئے ہیں جہاں لگ بھگ 50برطانوی پاو¿نڈ یا پاکستانی آٹھ ہزار روپے میں گھونگھوں سے فیشل کرایا جاتا ہے۔خواتین کے مطابق گھونگھوں کے فیشل کے بعد ان کی جلد پر بہترین ہوجاتی ہے اور کئی روز تک چمکتی رہتی ہے۔
پرندوں کی بیٹ کا فیشل
راہ چلتے اگر کبھی آپ پر پرندے کی بیٹ گرجائے تو آپ کو بہت ب±را لگتا ہے۔ جس کے بعد فوراََ کسی کپڑے یاپانی سے بیٹ صاف کی جاتی ہے۔ پرندوں کی بیٹ کبھی کارآمد بھی ہوگی یہ کبھی سننے میں نہیں آیا ہے۔ تاہم کاسمیٹکس ماہرین کے مطابق پرندوں کی بیٹ کافیشل کرانے والوں کی جلد پیدائشی بچوں کی طرح ملائم اور تروتازہ ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جاپان ہی کی ایجاد ہے اور اس کے فیشل میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس میں مختلف پرندوں کا فضلہ پیسٹ کی صورت میں ملاکر استعمال کیاجاتا ہے۔برطانیہ میں اس کا فیشل پچیس سے تیس ہزار پاکستانی روپے میں
کیاجاتا ہے اس کے علاوہ پرندوں کی فضلے کے خشک اور فیس واش بھی دسیتاب ہیں جن کی قیمت 2سے 3ہزار روپے ہے۔ ہالی وڈ اداکاروں میں ٹام کروز اور وکٹوریا بیکھم باقاعدگی سے یہ فیشل کرواتے ہیں۔
سانپوں کا مساج
سانپ دیکھتے ساتھ ہی انسان خوف سے کانپنے لگتا ہے کہ کہیں یہ ڈنک نہ مارلے۔زندہ سانپ کو پکڑنا بہادری کاکام ہے لیکن اتنی بہادری ہر کسی میں نہیں ہوتی کیونکہ عوام کی اکثریت نفسیاتی طور پر سانپوں سے ڈرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تھوڑی دیر چھوٹے سانپوں کو چہرے، کمر اور کندھے پر رینگنے دیا جائے تو اس سے ذہنی تناو¿ کم ہوتا ہے اور آدھے سرکادرد (میگرین) کم ہوتا ہے۔