Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں'ضرب عضب' کے ساتھ ساتھ 'ضرب قلم' کی بھی بہت ضرورت ہے، اس کے بغیر 'ہم دہشت گردوں کو مار تو سکتے ہیں لیکن ان کی سوچ نہیں بدل سکتے۔آج نیوز پر چلنے پر بی بی سی کے پروگرام سحربین میں سانحہ پشاور کی پہلی برسی پربات چیت کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مرکزی نکتہ دہشت گردوں کو مارنا ہے لیکن اس کے 20 نکاتی ایجنڈے میں 'صبر، تحمل اور امن کا پیغام دینے والی تعلیم کا سب سے اہم پہلو شامل نہیں کیا گیا۔ ملالہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنا دیکھا ہے ا±س سے ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے، لیکن پچھلے ایک سال سے حالات ٹھیک ہو رہے ہیں، تو تھوڑی سی امید ابھی باقی ہے۔ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ اگر ایک شخص لوگوں کو انتہا پسندی کی جانب لے کر جا رہا ہے تو آپ اسے اچھی تعلیم، امن اور اسلام کے اصل معنی سکھا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں متبادل طریقے بھی موجود ہیں، انھیں ہلاک کرنا ہی واحد حل نہیں ہے۔انھوں نے مزید کہا 'چاہے وہ مغربی میڈیا ہو یا مشرقی، وہ دنیا میں مقیم ایک ارب 60 کروڑ مسلمان آبادی پر الزام نہیں لگا سکتے، سب پر الزام لگنے سے دہشت گردی نہیں حتم کی جا سکتی، بلکہ یہ صرف لوگوں میں مزید غصہ اور زیادہ دہشت گرد ہی پیدا کرے گی۔
ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں'ضرب عضب' کے ساتھ ساتھ 'ضرب قلم' کی بھی بہت ضرورت ہے، اس کے بغیر 'ہم دہشت گردوں کو مار تو سکتے ہیں لیکن ان کی سوچ نہیں بدل سکتے۔
آج نیوز پر چلنے پر بی بی سی کے پروگرام سحربین میں سانحہ پشاور کی پہلی برسی پربات چیت کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مرکزی نکتہ دہشت گردوں کو مارنا ہے لیکن اس کے 20 نکاتی ایجنڈے میں 'صبر، تحمل اور امن کا پیغام دینے والی تعلیم کا سب سے اہم پہلو شامل نہیں کیا گیا۔
ملالہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنا دیکھا ہے ا±س سے ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے، لیکن پچھلے ایک سال سے حالات ٹھیک ہو رہے ہیں، تو تھوڑی سی امید ابھی باقی ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ اگر ایک شخص لوگوں کو انتہا پسندی کی جانب لے کر جا رہا ہے تو آپ اسے اچھی تعلیم، امن اور اسلام کے اصل معنی سکھا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں متبادل طریقے بھی موجود ہیں، انھیں ہلاک کرنا ہی واحد حل نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا 'چاہے وہ مغربی میڈیا ہو یا مشرقی، وہ دنیا میں مقیم ایک ارب 60 کروڑ مسلمان آبادی پر الزام نہیں لگا سکتے، سب پر الزام لگنے سے دہشت گردی نہیں حتم کی جا سکتی، بلکہ یہ صرف لوگوں میں مزید غصہ اور زیادہ دہشت گرد ہی پیدا کرے گی۔