ملک میں ایمبولینسز کو راستہ نہ دینا معمول بن گیا

شائع 20 مارچ 2016 02:48pm

کراچی :پاکستان میں ایمبولینس کو راستہ نہ دینا معمول بن گیا ہے۔ شاہراہ مصروف ہو یا غیرمصروف ایمبولینس کو راستہ نہیں دیا جاتا ، سب سے زیادہ لاپرواہی کار ڈرائیور برتتے ہیں، آئی سی آر سی نے کراچی سے بڑے اسپتالوں کے اشتراک سے ایک سروے کیا ہے۔

یہ مناظر جرمنی کے ہیں جہاں ایمبولینس کی سائرن بجتے ہی تمام ٹریفک رک جاتا ہے اور ایمبولینس کو ترجیحی بنیادوں پر راستہ دیا جاتا ہے، کسی بھی مہذب معاشرے میں ایمرجنسی سروس کے بارے میں ایک عمدہ ردعمل ہے۔ لیکن بدقسمتی سےپاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔

بین الاقوامی کمیٹی برائے ہلال احمر یعنی آئی سی آر سی نے کراچی کے بڑے اسپتالوں کے ساتھ مل کر ایک سروے کیا، سروے میں سامنے آنے والے حقائق چشم کشا ہیں۔ سروےکے مطابق ایمبولینس کو راستہ نہ دینے کا ایک عمومی رویہ پایا جاتا ہے، اس کےلئے رش کے اوقات کی کوئی قید نہیں، چھپن اعشاریہ دو فیصد ایمبولینسز کو مصروف اوقات میں راستہ نہیں دیا گیا جبکہ غیرمصروف اوقات میں ہی تناسب ستاون اعشاریہ سات فیصد رہا۔

اگرچہ بارہ میں سے گیارہ فیصد ایمبولینسز ٹریفک جام میں پھنس جاتی ہیں لیکن ٹریفک جام کے علاوہ دوسری سب سے بڑی رکاوٹ کار ڈرائیورز کی لاپرواہی ہے۔ بارہ میں سے سات ایمبولینسز صرف اس لئے تاخیر کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ کار والے بابو انہیں راستہ نہیں دیتے۔

منی بسوں کی وجہ سے بارہ میں سے چھ ایمبولینسز تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، بارہ میں سے تین ایمبولینسزاس لئے تاخیر کا شکار ہوئیں کیونکہ ایمبولینس ڈرائیور نے سائرن بجانے کی زحمت نہیں کی جبکہ وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے بھی بارہ میں سے ایک ایمبولینس تاخیر کا شاکر ہوتی ہے۔ سروے کے دوران یہ بات مشاہدے سے آئی کہ اڑتالیس فیصد ایمبولینس کے سامنے ایک سے دو کاریں رکاوٹ بنتی ہیں، تینتالیس فیصد ایمبولینسز کے سامنے تین سے چارکاریں رکاوٹ بنتی ہیں جبکہ پانچ سے زائد کاریں سڑک پر ایک ساتھ چل رہی ہوں تو چورنواے فیصد ایمبولینسز کو راستہ نہیں ملتا۔

جب ایمبولینس ٹریفک میں پھنس جاتی ہے تو ڈرائیورز کیا کرتے ہیں، یہ بات مشاہدے میں آئی کہ تہتر اعشاریہ آٹھ فیصد ڈرائیورز سائرن بجاتےہیں، چھہتر اعشاریہ دو فیصد ڈرائیور نے پھرتی دکھائی اور نکل گئے، اکاون فیصد ڈرائیورز نے لال بتی جلائے رکھی۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ صرف پچیس فیصد ایمبولینسز ایسی تھیں جو جدید طرز پر تمام سازسامان سے لیس تھیں جبکہ بقایا پچھترفیصد ایمبولینسز ہائی روف گاڑیوں میں بنائی گئی ہیں۔ تحقیق کےلئے ایدھی، چھیپا، امن اور دیگر ایمبولینسز سروسز سے مدد لی گئی۔

Read Comments