بچوں کو تحفظ دینے کیلئے نیا قانون متعارف ہونیکا امکان

شائع 20 مارچ 2016 02:52pm

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں بچوں کو تحفظ دینے کیلئے نیا قانون" اسلام آباد تحفظ اطفال قانون دوہزار سولہ"جلد متعارف کرایا جائیگا ،وزارت قانون و انصاف کا کہنا ہے قانون کے نفاذ پرکوئی فرد یا ادارہ بچوں کی تضحیک ،ا±نہیں بلیک میل ، ہراساں یا ذاتی معلومات افشاءنہیں کرسکے گا۔
وزارت قانون و انصاف کے ذرائع نے آج نیو زکو بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں تاحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے تحت بچوں کے حقوق ، ا±نکی سلامتی اور قانونی تحفظ یقینی بنایا جا سکے، اسلام آباد تحفظ اطفال قانون دوہزار سولہ کو لانے کا بنیادی مقصد وفاق کے علاقے میں بچوں کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنانا ہے۔
قانون کا مسودہ حتمی مراحل میں ہے جسے جلد شہر اقتدار پر نافذ کیا جائیگا۔ قانون کے اطلاق سے بچوں کو بلیک میل ، ا±نکا میڈیا ٹرائل اور نام کو نہیں ا±چھالا جائیگا۔ ذرائع ابلاغ اپنی خبروں میں بچوں کا نام، چہرہ یا ذاتی معلومات افشاءنہیں کرسکیں گے، کوئی فرد،سرکاری ،نیم سرکاری یا نجی ادارہ بچوں کو ہراساں نہیں کرسکے گا۔ کسی بھی صورت میں بچوں کی تضحیک نہیں کی جائیگی۔

مسودہ قانون کے مطابق ایف آئی آرمیں بچوں کی تذلیل کے موجب الفاظ کا استعمال نہیں ہوں، تفتیشی آفیسر، طبی معائنہ کرنیوالا ڈاکٹر اور دیگر۔ بچوں کے حوالے سے کسی جرم میں ملوث پائے گئے توسخت سزائیں ملیں گی ،عدالتی دستاویزات اور ایف آئی آر میں موجود بچوں کا نام او ر دیگر معلومات افشاءنہیں کی جائیں گی جبکہ بچوں سے متعلق مقدمات کی سماعت بند کمرہ عدالت میں کی جائیگی۔

Read Comments