Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
فیصل آباد: ایشیاءکا سب سے بڑا چلڈرن اسپتال تعمیر کرنے کا حکومتی منصوبہ کھوکھلے دعوو¿ں کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اربوں روپے کی لاگت سے عمارت تو کھڑی کر دی گئی مگر دیگر سہولیات کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔تالوں میں بند وارڈز، ادویات کی عدم دستیابی، میڈیکل اسٹاف کی کمی اور صرف پانچ بستروں پرمشتمل ایوٹ ڈور یہ ہے ایشیاءکا سب سے بڑا چلڈرن اسپتال،حکومتی ارادہ تھا پانچ ارب روپے کی لاگت سے اسپتال میں مریضوں کو سہولیات دی جائیں،مگر تین سال گزر گئے اسپتال میں ڈسپنسری جیسی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ انتظامیہ کی ایک سو نوے آسامیاں خالی ہیں،جبکہ وارڈز میں ایک ہزار بستروں میں سے ابھی تک ایک بیڈ بھی نہیں لگ سکا، پھر بھی اسپتال انتظامیہ کام کی رفتار سے مطمئن ہے۔ضلعی انتظامیہ اور حکومت ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے کریڈٹ لینے کی دوڑ میں تو ایک دوسرے سے آگے ہیں لیکن منصوبے کی تاخیر کی ذمہ داری پر سبھی آنکھیں چرا رہے ہیں۔حکومتی دعوے کے برعکس تین سال گزرنے کے باوجود بھی ہسپتال کا پچاس فیصد کام بھی مکمل نہ ہوسکا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ آخر یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا۔
فیصل آباد: ایشیاءکا سب سے بڑا چلڈرن اسپتال تعمیر کرنے کا حکومتی منصوبہ کھوکھلے دعوو¿ں کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اربوں روپے کی لاگت سے عمارت تو کھڑی کر دی گئی مگر دیگر سہولیات کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔
تالوں میں بند وارڈز، ادویات کی عدم دستیابی، میڈیکل اسٹاف کی کمی اور صرف پانچ بستروں پرمشتمل ایوٹ ڈور یہ ہے ایشیاءکا سب سے بڑا چلڈرن اسپتال،حکومتی ارادہ تھا پانچ ارب روپے کی لاگت سے اسپتال میں مریضوں کو سہولیات دی جائیں،مگر تین سال گزر گئے اسپتال میں ڈسپنسری جیسی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔
انتظامیہ کی ایک سو نوے آسامیاں خالی ہیں،جبکہ وارڈز میں ایک ہزار بستروں میں سے ابھی تک ایک بیڈ بھی نہیں لگ سکا، پھر بھی اسپتال انتظامیہ کام کی رفتار سے مطمئن ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور حکومت ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے کریڈٹ لینے کی دوڑ میں تو ایک دوسرے سے آگے ہیں لیکن منصوبے کی تاخیر کی ذمہ داری پر سبھی آنکھیں چرا رہے ہیں۔
حکومتی دعوے کے برعکس تین سال گزرنے کے باوجود بھی ہسپتال کا پچاس فیصد کام بھی مکمل نہ ہوسکا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ آخر یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا۔