Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
لاہور:پنجاب حکومت نے تحفظ نسواں ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا۔ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے والے فرد کو گھر سے بے دخل کرنے اور ٹریکر پہنانے سے متعلق شقیں واپس لینے کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے گی۔تحفظ نسواں ایکٹ پر مختلف دینی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اعتراضات اور احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیوں کے بعد پنجاب حکومت نے ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیوی پر تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ خانون کی شکایت پر گھر سے بے دخل کرنے کے بجائے خاندان کے افراد سے ضمانت لی جائے گی کہ دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہو گا۔ رانا ثناء اللہ نے واضع کیا کہ خواتین پر سنگین تشدد کرنے والے کسی خاندان کے فرد کو ٹریکر بھی نہیں لگایا جائے گا۔ خواتین کو بلیک میل اور جان سے مار دینے کے خدشے کی بنا پر جی پی ایس ٹریکر پہنایا جا سکے گا۔پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور مختلف مکاتب فکر کے گیارہ سو سے زائد علماء کو سفارشات مرتب کرنے کے لیے خطوط لکھے گئے ہیں۔پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لیے بغیر تشدد پوچھ گچھ پر بھی کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔
لاہور:پنجاب حکومت نے تحفظ نسواں ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا۔ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے والے فرد کو گھر سے بے دخل کرنے اور ٹریکر پہنانے سے متعلق شقیں واپس لینے کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے گی۔
تحفظ نسواں ایکٹ پر مختلف دینی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اعتراضات اور احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیوں کے بعد پنجاب حکومت نے ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیوی پر تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ خانون کی شکایت پر گھر سے بے دخل کرنے کے بجائے خاندان کے افراد سے ضمانت لی جائے گی کہ دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہو گا۔
رانا ثناء اللہ نے واضع کیا کہ خواتین پر سنگین تشدد کرنے والے کسی خاندان کے فرد کو ٹریکر بھی نہیں لگایا جائے گا۔ خواتین کو بلیک میل اور جان سے مار دینے کے خدشے کی بنا پر جی پی ایس ٹریکر پہنایا جا سکے گا۔
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور مختلف مکاتب فکر کے گیارہ سو سے زائد علماء کو سفارشات مرتب کرنے کے لیے خطوط لکھے گئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لیے بغیر تشدد پوچھ گچھ پر بھی کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔