Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
لاہور:لاہور میں ہونیوالے خودکش دھماکے کے حوالے سے تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مبینہ خودکش حملہ آور کے اعضاءڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیئے ہیں۔شہر میں سرچ آپریشن کے دوران پچاس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور خودکش دھماکے کے بعد تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلا دیا ہے۔مبینہ خودکش بمبار کے اعضاءبھی ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ اس کے رشتہ داروں کے بھی ٹیسٹ لئے جائیں گے۔ حساس ادارے کے ذرائع کے مطابق کارروائی ممکنہ طور پر پنجابی طالبان نے کی ہے کیونکہ گلشن اقبال دھماکے،واہگہ بارڈر دھماکے اور پولیس لائن دھماکوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق دھماکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے لاہور اور گردونواح میں دہشت گردوں کیخلاف بڑی کارروائیوں کا ردعمل بھی ہوسکتے ہیں۔دھماکے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی تھانے میں خودکش بمبار اور اس کے تین ساتھیوں کیخلاف ایس ایچ او اقبال ٹاون نصراللہ خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں انسداد دہشت گردی،قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق خودکش دھماکے میں آٹھ سے دس کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ اور کیل بھی شامل تھے۔
لاہور:لاہور میں ہونیوالے خودکش دھماکے کے حوالے سے تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مبینہ خودکش حملہ آور کے اعضاءڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیئے ہیں۔شہر میں سرچ آپریشن کے دوران پچاس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور خودکش دھماکے کے بعد تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلا دیا ہے۔مبینہ خودکش بمبار کے اعضاءبھی ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ اس کے رشتہ داروں کے بھی ٹیسٹ لئے جائیں گے۔
حساس ادارے کے ذرائع کے مطابق کارروائی ممکنہ طور پر پنجابی طالبان نے کی ہے کیونکہ گلشن اقبال دھماکے،واہگہ بارڈر دھماکے اور پولیس لائن دھماکوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے لاہور اور گردونواح میں دہشت گردوں کیخلاف بڑی کارروائیوں کا ردعمل بھی ہوسکتے ہیں۔
دھماکے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی تھانے میں خودکش بمبار اور اس کے تین ساتھیوں کیخلاف ایس ایچ او اقبال ٹاون نصراللہ خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں انسداد دہشت گردی،قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق خودکش دھماکے میں آٹھ سے دس کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ اور کیل بھی شامل تھے۔