جے آئی ٹی رپورٹ کی صحت پر سوالات

تحریک انصاف نے عزیربلوچ کی جے آئی ٹی کو مسترد کردیا، وفاقی وزیر...
شائع 07 جولائ 2020 07:27pm

تحریک انصاف نے عزیربلوچ کی جے آئی ٹی کو مسترد کردیا،

وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جاری کردہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ اصل نہیں، سندھ کی رپورٹ پینتیس صفحات کی ہے، جبکہ اصل جے آئی ٹی کی رپورٹ پینتالیس صفحات کی ہے۔

علی زیدی کے مطابق عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی پر چھ دستخط ہونا تھے، سندھ حکومت اور وفاقی نمائندوں میں ڈیڈ لاک ہوا،ڈیڈ لاک کی وجہ سے اصل رپورٹ دستخط شدہ نہیں،وفاق کے چار نمائندوں نے دستخط کرکے رپورٹ بھجوادی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کونبیل گبول نے بھی مکمل نہیں مانا،جے آئی ٹی میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قتل کس کے کہنے پرکیے، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حکومتی تحفظ کے بغیر اتنے بڑے کام کیسے ہوگئے۔

علی زیدی نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ میں بڑے انکشافات تھے، اصل رپورٹ میں چھ فرینڈز کے نام درج ہیں، اصل جے آئی ٹی رپورٹ میں عزیر بلوچ کی سیاسی وابستگی لکھی ہے، اصل رپورٹ میں شرجیل میمن اور قادر پٹیل کا ذکر ہے، علی زیدی نے سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Read Comments