'54پائلٹس کخلا ف کل ایکشن لے لیا، ان میں سے 28ٹرمینیٹ ہو گئے'

وفاقی وزیر شہری ہوابازی سرور خان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے پر چھ ماہ کےلئے پابندی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کا پس منظر جاننا بھی ضروری ہے۔
شائع 08 جولائ 2020 09:35pm

وفاقی وزیر سرور خان نے کہا کہ 54پائلٹس کے خلاف کل ایکشن لے لیا ہے۔ان میں28ٹرمینیٹ ہو گئے۔ان کے خلاف کریمینل کارروائی ہو گی جبکہ 34کو مزید لائنسنس معطلی کے نوٹسز بھج دیے۔

یورپی یونین ایئرسیفٹی ایجنسی اور برطانیہ کے حکام کی جانب سے پی آئی اے کی یورپ میں کام کرنے کی اجازت 6 ماہ کے لئے معطل کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس مرتضی جاوید عباسی اور دیگر نے پیش کیا۔

وفاقی وزیر شہری ہوابازی سرور خان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے پر چھ ماہ کےلئے پابندی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کا پس منظر جاننا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی کی جانب سے ایوان میں توجہ مبذول کرائے جانے کے نوٹس کے جواب میں کہا کہ 54پائلٹس کے خلاف کل ایکشن لے لیا ہے۔ان میں 28ٹرمینیٹ ہو گئے۔ کریمینل کارروائی ہو گی ۔34کو مزید لائنسنس معطلی کے نوٹسز بھج دیے۔

انہوں نے کہا کہ54پائلٹس کی لسٹ یو اے ای نے بھیجی اسی طرح ملائیشیا،ترکی،ویتنام،مصر،بحرین نے بھی لسٹ بھیجی اس پر کام ہو رہا ہے غلط طریقے سے امتحان اور پیسے دے کر نوکریاں دی گئیں۔

وفاقی وزیر کے بیان کے موقع پر اپوزیشن نے نعرہ بازی کی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی دنیا بھر میں ایئرلائنز اور مسافروں کی حفاظت پر نظر رکھتی ہے۔ پروازوں کی معطلی پہلی بار نہیں ہوئی۔کبھی انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 2007 میں بھی حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر آپریشن معطل ہوا تھا۔اس ایجنسی نے 5 نکات ہمارے سامنے رکھے۔تقریبا 5 پر ہی جواب دے دیا مگر کراچی طیارہ حادثہ ہو گیا اور اس میں پائلٹ کی غلطی سامنے آئی اور 100 جانیں ضائع ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کبھی انسانی جانوں کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں دی گئی آپریشن پہلی بار معطل نہیں ہوئی۔ماضی میں بھی آپریشن معطل ہو چکے ہیں۔یہ سلسلہ 2008 کے بعد سے شروع ہوا ہے۔حالیہ جہاز حادثے میں پائلٹ کی غلطی سامنے آئی۔جب معاملے کا جائزہ لیا تو618لوگوں کی ڈگریاں جعلی تھیں اور17پائلٹ اور 96 انجینئرز کی بھی جعلی ڈگری تھی۔

انہوں نے کہا کہ حقائق سے پردہ اٹھاتا ہوں تو ہمارے دوست ناراض ہو جاتے ہیں۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ آپ گند صاف کریں ۔لیکن پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ گند اس حکومت نے کیا ہے۔جن جن پائلٹس کے نام لئے گئے ان میں سے بہت سے نوکریاں پہلے چھوڑ کر جاچکے ہیں۔یہ کہتے ہیں یہ پچھلا گند صاف کرنے آئے ہیں ان کا اپنا اتنا گند ہے کہ اگر طیارہ حادثہ نہ ہوتا اور پتہ نہیں کتنا پڑ جاتا۔اب وزیر صاحب کہہ رہے ہیں وزارت قانون سے رائے لے رہے ہیں۔ ایوان کو بتایا جائے کہ حکومت کے اس اعلان سے کتنا نقصان ہوا۔ بہتر تھا کہ پہلے تحقیق کرلیتے پھر بات کرلیتے۔

بعد ازاں اجلاس جمعرات کی دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Read Comments