'کلبھوشن کہتا رہا مجھ سے بات کریں اور سفارتکار چلتے بنے'
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کلبھوشن بھارتی سفارتکار کو پکارتا رہا اور وہ چلے گئے۔کلبھوشن کہتا رہا مجھ سے بات کریں اور سفارتکار چلتے بنے، بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کلبھوشن بار بار سفارتکاروں کو پکارتا رہا لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ قونصلر رسائی کی ضرورت کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے، بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن تک رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سفارتکار کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دی۔آج بھارت کے 2سفارتکاروں کو قونصلر رسائی دی گئی۔ جوبات طے ہوئی تھی اس کے تحت قونصلر رسائی دی۔بھارت کی بدنیتی سامنے آگئی یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن بھارتی سفارتکار کو پکارتا رہا اور وہ چلے گئے۔ کلبھوشن کہتا رہا مجھ سے بات کریں اور سفارتکار چلے بنے۔ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا۔
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سفارتکاروں نےکلبھوشن سےبات ہی نہیں کرنی تھی تورسائی کیوں مانگی۔ بھارتی سفارتکاروں کودرمیان میں شیشےپراعتراض تھاوہ بھی ہٹادیا۔ سفارتکاروں نےآڈیوویڈیو ریکارڈ پراعتراض کیاوہ بھی نہیں کی، بھارتی سفارتکاروں کی تمام خواہشات پوری کیں پھربھی وہ چلےگئے۔