صحافی مطیع اللہ جان اغواء، ابتدائی رپورٹ تیار
سینئر صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے،آبپارہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔
سینئر صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے،وہ اپنی اہلیہ کو اسکول سے لینے گئے تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق مطیع اللہ کو نامعلوم افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے مطیع اللہ کو کل تک بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔
آبپارہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی رپورٹ تیار کرلی، پولیس کے مطابق مطیع اللہ جان کی گاڑی اسکول کے باہرکھڑی ملی،ان کا ایک موبائل فون گاڑی میں موجود تھا،اسکول کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی سامنے آگئی جس میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ نامعلوم افراد دوگاڑیوں میں آئے اور مطیع اللہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
مزاحمت کے دوران مطیع اللہ نے اپنا موبائل فون اسکول کے اندر پھینک دیا، فوٹیج کے مطابق مطیع اللہ کو اغوا کرنے کے بعد اغوا کاروں کے ساتھ آنے والے نامعلوم شخص جس نے کسی ادارے کا یونیفارم زیب تن کیا ہوا تھا۔ اسکول کے اندر پھینکے جانے والا فون حاصل کرلیا۔واقعے سے متعلق پولیس نے مطیع اللہ کی اہلیہ کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے مطیع اللہ کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔
مغوی کے بھائی کی درخواست پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کردیئے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر مطیع اللہ جان کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا تو فریقین بدھ کو ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوں۔