اسلام آبادمیں پولیس وردی میں لوگ دندناتے پھر رہے ہیں،جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس...
شائع 22 جولائ 2020 12:08pm

اسلام آباد:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اسلام آباد میں پولیس وردی میں لوگ دندناتے پھر رہے ہیں،صورت حال خطرناک ہے، برداشت نہیں کی جاسکتی ،پولیس کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح ہو سکتا ہے،رول آف لاء نہیں ہو گا تو یہاں کچھ نہیں ہو گا، صرف افراتفری ہوگی۔

صحافی مطیع اللہ جان منگل کی دوپہر اپنی اہلیہ کو اسلام آباد میں اسکول سے لینے کیلئے جی سکس پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس کے باوردی اہل کاروں نے انہیں زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال لیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تاہم اب مطیع اللہ جان اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

اغواءکار انہیں فتح جنگ کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے جہاں سے وہ اپنے گھر پہنچے، مطیع اللہ جان کے اغواء کا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں بھائی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی مطیع اللہ جان کی بازیابی کیلئے دائر درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ یہ الارمنگ ہے، اس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، عام آدمی سے بھی وفاقی دارالحکومت میں یہ رویہ نہیں رکھا جا سکتا، جس نے بھی یہ کیا ہے وہ باقیوں کو ڈرانا چاہتا ہے، وفاقی حکومت کو بھی آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا چاہیئے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عوام کو کیا تاثر ملے گا کہ پولیس کی وردی میں لوگ دندناتے پھر رہے ہیں، کسی کی جرات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ پولیس کی گاڑیاں اور وردی استعمال کرے، سی سی ٹی وی آگئی ہے یونیفارم دیکھا جا سکتا ہے یہ پولیس کیلئے ٹیسٹ کیس ہے۔

Read Comments