بلاول بھٹوزرداری نے چیئرمین نیب سے استعفےکا مطالبہ کردیا

لاہور:پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی )کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری...
شائع 22 جولائ 2020 02:47pm

لاہور:پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی )کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال سے استعفےکا مطالبہ کردیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ ن لیگ سے اے پی سی پر تفصیلی بات چیت ہوئی،شہبازشریف کی صحتیابی کے بعد اے پی سی ہوگی،آج پنجاب کا دورہ کرکے اسلام آباد جارہا ہوں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے زراعت کا شعبہ تباہ کردیا ہے،جب ایسےوزیرہوں گےتوپنجاب کا یہی حال ہوگا،کسانوں کے حالات مزیدخراب ہوتے جارہے ہیں،پنجاب کی ٹیم ناکام،نالائق اور نااہل ہے،وفاقی حکومت نےکورونا میں صوبوں کاساتھ نہیں دیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہہ رہاہےپی ٹی آئی حکومت کرپٹ ترین ہے ،حکومت خودتسلیم کررہی ہےکہ پنجاب میں کرپشن ہے،اگران کی نیت صاف ہوتی توکرپشن کیوں ہوتی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کومناظرےکاچیلنج کئے2ہفتے ہوچکے ہیں،بی آرٹی اوردیگرمنصوبوں کاجواب دینےکوتیارنہیں،پوسٹ آفس کی وزارت میں118بلین روپےکی کرپشن ہوئی،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نےوزارتوں کوخط لکھا ہے،پٹرول،آٹے،چینی میں کرپشن پرکوئی بات نہیں ہوتی۔

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نےچیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب استعفیٰ دیں اورگھرجائیں،نیب غیرآئینی ادارہ ہے ،اسے تالالگادیں،بلاتفریق احتساب کیلئےتمام اسٹیک ہولڈرزمل کرقانون سازی کریں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے سے واضح ہے کہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے استعمال ہوتا ہے ،نیب کے رہنے کا کوئی جواز نہیں،سپریم کورٹ کہتی ہے کہ ایسےنیب کوبند کرو،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کےسیاسی قیدیوں کو رہاکیاجائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کاکہنا تھا کہ سلیکٹرزکےذریعےحکومت چلانےکی کوشش ہورہی ہے،حکومت کے میگاکرپشن کیسزپرنیب کام نہیں کررہا،بی آرٹی،مالم جبہ،آٹا،چینی چوری پرکارروائی ہونی چاہیئے،سیکٹرز کے ذریعے حکومت چلانے کی کوشش ہورہی ہے،اگرہماری حکومت ہوتی توغداری کاالزام لگ چکا ہوتا ،وہ کہتے ہیں کہ ہم فیس نہیں ،کیس دیکھتےہیں،عوام کے ساتھ یہ مذاق بند کریں ۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے نام پر کالا قانون لایا جارہا ہے،قانون کے تحت کسی پر بھی دہشت گردی کاالزام لگ سکتاہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی مائنس ون کی کبھی حمایت نہیں کرتی ،وزیراعظم نے خود مائنس ون کی بات کی،اتحادی ساتھ چھوڑدیں تو خود مائنس ون ہوجائےگا،تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں،تمام جماعتوں کو سیاسی مہم چلانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔

چیئرمین پی پی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کبھی غیرجمہوری عمل کاحصہ نہیں بنےگی،احتجاج کا ابھی اعلان نہیں کیا،احتجاج کاآپشن شایدمجبورہوکراستعمال کرناپڑے۔

Read Comments