آرڈیننس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کی سزا معاف نہیں کی،فروغ نسیم

اسلام آباد:وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس...
شائع 24 جولائ 2020 02:20pm

اسلام آباد:وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی کوئی سزا معاف نہیں کی، آرڈیننس میں نہ تو مجرم کی سزا ختم کی گئی اور نہ ہی کوئی سہولت دی گئی ہے، ہم نے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے۔

ایم کیو ایم کے رہنماء اور سینیٹرفروغ نسیم نے وزارت کا حلف اٹھاتے ہی قومی اسمبلی میں انٹری دی اور حذب اختلاف پر سخت تنقید کی ۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ بتانا چاہتا ہوں کہ کلبھوشن یادیو آرڈیننس لانا کیوں ضروری تھا، جاسوس کی کوئی سزا معاف نہیں کی گئی، آرڈیننس نہ لاتے تو بھارت عالمی قوانین سے فائدہ اٹھاتا، اس آرڈیننس سے ہم نے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے۔

وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم نے اپوزیشن کو اس حساس سیکیورٹی معاملے پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ 3 مارچ 2016 کو کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا گیا، اس وقت کی وفاقی حکومت نے ٹھیک فیصلہ کیا ہوگا کہ قونصلر رسائی نہیں دینی تاہم 8مئی 2017 کو بھارت کلبھوشن کیس عالمی عدالت انصاف میں لے گیا، عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ سنایا ۔

وفاقی وزیرقانون کا مزید کہنا تھاکہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کی بھارتی استدعا مسترد کی، فیصلے کے پیش نظر آرڈیننس جاری کیا گیا، یہ آرڈیننس این آر او نہیں ہے، این آر او پرویز مشرف نے جاری کیا تھا، اگر پاکستان قونصلر رسائی نہیں دے گا تو بھارت عالمی دنیا میں شور مچائے گا۔فروغ نسیم نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس لایا گیا، بھارت چاہتا ہے ہم عدالتی فیصلہ نہ مانیں، بھارت چاہتا ہے سکیورٹی کونسل جا کر ہمارے خلاف قرارداد پاس کرائے لہذا ہمیں آئی سی جے کے فیصلوں کی ہر طرح تعظیم کرنی ہے، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی کوئی سزا معاف نہیں کی،اگر کلبھوشن کی سزا ختم ہوتی تو میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر احتجاج کرتا۔

Read Comments