نیب مجرمان سزامعطل ہونے پر عہدے پر بحال نہیں ہوسکتے،سپریم کورٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نیب کے سزا یافتہ سرکاری افسر کی ملازمت...
اپ ڈیٹ 27 جولائ 2020 03:13pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نیب کے سزا یافتہ سرکاری افسر کی ملازمت پربحالی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب مجرمان سزامعطل ہونے پر عہدے پر بحال نہیں ہوسکتے،سزامعطل ہونےکا مطلب جرم ختم ہونا نہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے نیب کےسزایافتہ سرکاری افسرکی ملازمت پربحالی کے فیصلے کیخلاف حکومتی اپیل پر سماعت کی۔

عدالت نے کہا کہ نیب مجرمان سزامعطل ہونے پر عہدے پر بحال نہیں ہوسکتے،سزامعطل ہونےکا مطلب جرم ختم ہونا نہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طاہرعتیق ٹیلی فون انڈسٹریزمیں ڈپٹی جنرل منیجرتھا،غیرقانونی ٹھیکے کے الزام میں 5سال قید بامشقت اور 50لاکھ جرمانہ ہوا،طاہر عتیق کو سزا ہونے پر محکمے نے برطرف کردیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سزامعطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا،اپیل میں بری ہونے تک سرکاری وعوامی عہدےپربحالی نہیں ہوسکتی۔

عدالت نے نیب کے سزایافتہ سرکاری افسر کی ملازمت پر بحالی کافیصلہ کالعدم دے دیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ خلاف قانون قرار دینے کی حکومتی اپیل منظور کرلی۔

Read Comments