مصطفی کمال کیخلاف غیرقانونی الاٹمنٹس کیس کی سماعت

احتساب عدالت میں پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال اور دیگر...
شائع 27 جولائ 2020 07:07pm

احتساب عدالت میں پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال اور دیگر کے خلاف غیرقانونی الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت انیس اگست تک ملتوی کردی گئی ۔

میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کراچی کے لوگوں کیلئے اس سے زیادہ مایوس کن دور نہیں آیا،شہر والے کہاں جائیں کون سنے گا، کس ادارے کے پاس جائیں ؟خدارا ہم پررحم کریں ۔

کلفٹن میں سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی جہاں پی ایس پی سربراہ مصطفی کمال سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔

فاضل کی جج کی رخصت کے باعث ریفرنس کی سماعت نہ ہوسکی کیس کی کاروائی انیس اگست تک ملتوی کردی گئی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پرتمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی.

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ کہاں جائیں ؟شہری حکومت اورسندھ حکومت کہتی ہے ہمارا مسلہ نہیں،وفاقی حکومت بیان سے آگے نہیں جاتی ،کراچی کے لوگوں کیلئے اس سے زیادہ مایوس کن دور نہیں آیا،کراچی والے کہاں جائیں اقوام متحدہ کے پاس جائیں ؟؟،کون سنے گا ؟ کس ادارے کے پاس جائیں ؟خدارا ہم پر رحم کریں۔

انہوں نے کہا کراچی میں نہ بجلی ہے نہ پانی ہے ،ذرا سی بارش میں پورا شہر تباہ ہوگیا ،کالے پیلے اسکولوں میں بھی تعلیم نہیں،میں پاکستان کےا داروں سے مخاطب ہوں یہاں حکومت نااہلی ست پوری نسل کو مار رہے ہیں،

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ جمہوری دہشت گردی ہے ؟ پوری نسل کو مارنے والے پروٹوکول میں گھوم رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کراچی پاکستان کو ستر فیصد ریونیو دینے والا شہر ہے اور لاوارث ہے،اختیارات نہ ہونے کا جھوٹ بولتے ہیں کم از کم کچرا اٹھانے کا اختیار ہے ،میئر کی بات مان لیں کہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی مد میں دس کروڑ روپے آۓ ہیں ،کراچی میں دو دو کروڑ کے ساڑھے سات سو پروجیکٹس ہونے چاہئے تھے،بڑے پیمانے ہر کرپشن ہوئی ہے ان کا نام ای سی ایل ایک میں ڈالا جاۓ، شہر کے کرتا دھرتا لوگوں کو پکڑیں بھاگنے نہ دیں،ہم بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں،کراچی کو چھ شہروں میں تبدیل کردیا۔

Read Comments