وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے مستعفی
اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے استعفیٰ دے دیا۔
تانیہ ایدروس کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کے مسئلے پر ان پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے جس کی وجہ سے انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
تانیہ ایدروس نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ میری دہری شہریت پر سوال اٹھائے گئے، مجھ پر ہونے والی تنقید ڈجیٹل پاکستان کے وژن پر اثر انداز ہو رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم کو استعفیٰ پیش کرتی ہوں، تاہم میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ملک کی خدمت کرتی رہوں گی۔
تانیہ ایدروس کون ہیں؟
تانیہ ایدروس کو پاکستان سے گئے 20 سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے امریکا سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگری لینے کے بعد میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا۔
گوگل کی جانب سے پاکستان بزنس یعنی گوگل کی پاکستان میں پروڈکٹس لانچ کرنے کا موقع ملنے پر وہ 7 سال پہلے امریکا سے سنگاپور منتقل ہوئیں۔
گوگل کیلئے2008 سے 2016 تک بطور کنٹری منیجرساؤتھ ایشیا کام کرنے والی اب تانیہ گوگل کے پراڈکٹ، پیمنٹ فار نیکسٹ بلین یوزر پروگرام کی ڈائریکٹرتھیں۔
وزیراعظم نے تانیہ کو کیسے منتخب کیا؟
گزشتہ روز ڈیجیٹل پاکستان کی افتتاحی تقریب میں تانیہ کا کہنا تھا کہ میرے ایک جاننے والے نےچھ سات ماہ قبل وزیراعظم کو ای میل بھیجی تھی کہ اگرآپ ٹیکنالوجی اورڈیجیٹائزیشن کی جانب جارہے ہیں تو تانیہ سے بات کریں۔
تانیہ ایدروس کے مطابق وہ ای میل کے بارے میں نہیں جانتی تھیں تاہم وزیراعظم نے یہ ای میل اپنی اصلاحاتی ٹیم کو بھیجی جنہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد جہانگیر ترین سے بات ہوئی جنہوں نے پاکستان واپسی کیلئے قائل کرتے ہوئے تانیہ کے آئیڈیاز سنے اور ان کی حکومتی عہدیداروں سے ملوایا۔
وزیراعظم عمران خان سے تانیہ ایدروس کی پہلی ملاقات جہانگیر خان نے کروائی۔ تانیہ کے مطابق پہلی ملاقات میں عمران خان نے ایک بات واضح کی کہ یہاں مسائل کی فہرست بہت لمبی ہے لیکن تم نے گھبرانا نہیں ہے۔
تانیہ کا کہنا ہے کہ سب کا اعتماد دیکھ کر مجھے لگا کہ میں بھی پاکستان آکر اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہوں۔
منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے آنے سے اعتماد ملا کہ شاید میرے جیسا بندہ واپس آ کرحکومت کے ساتھ مل کرکچھ کرسکے۔ انہیں عام آدمی کی پرواہ ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ میراسیاسی ایجنڈہ کیا ہے اس لیے بتانا چاہتی ہوں کہ میرا سادہ سا ایجنڈہ ہے، مجھے صرف پاکستان کی ترقی دیکھنی ہے۔