اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کیلئے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں: یو اے ای
متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر برائے خارجہ امور، ثقافت اور عوامی سفارت کاری انور قرقاش کا کہنا ہے کہ یو اے ای ایک خود مختار ریاست ہے جیسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کو دئے گئے ایک انٹرویو کے دوران یو اے کے معاون وزیر کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے اس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے جیسے علاقوں پر اپنی خودمختاری کے دعوے کے اعلان کو صرف ’معطل‘ کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر برائے امور خارجہ، ثقافت اور عوامی سفارت کاری انور قرقاش نے انٹرویو کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے جس حیرت انگیز معاہدے کا اعلان کیا تھا اس میں ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ پتھر پر کوئی لکیر ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن فلسطینی قیادت نے اس پر شدید تنقید کی تھی۔ حماس نے اسے فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا عمل قرار دیا ہے جب کہ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔
انور قرقاش نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک خود مختار ریاست ہے جیسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے ذریعے اسرائیل کی توسیع پسندی کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے دونوں فریقین کو امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا جو کئی بار ناکام ہو چکے ہیں۔ اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی بحالی کے لیے کسی اور عرب ملک نے کوئی اقدام نہیں کیے، درحقیقت یہ امارات کے ہی قائدین ہیں جنہوں نے یہ نہایت جرات مندانہ اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسے اقدام کی بجائے اس اصل روح میں دیکھا جانا چاہیے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور گرگش نے معاہدے کو پورے خطے کے لیے جیت قرار دیتے ہوئے’امید کی کرن‘ قرار دیدیا۔
اماراتی وزیر نے کہا کہ ہم اس معاہدے کو اسرائیلیوں کی طرف سے (مقبوضہ علاقوں) کو ضم کرنے کے عمل میں وقفے کی بجائے اسے روکنے کے عزم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون سے فلسطین اور اسرائیل تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں گے۔
لیکن انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ محض ہمارا گمان ہے۔ ہم نے (اسرائیل پر) اعتماد قائم کیا ہے۔
انور قرقاش نے کہا ہے کہ جب اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے بارے میں چیخ و پکار کرنے یا اس کی مذمت کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا جب کہ اس سے تعلقات منقطع کرنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بجائے اس معاہدے سے متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں اسرائیل کو راضی کرنے کے لیے ان سے بات کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امارات پہلے دن سے ہی فلسطینیوں کے حقوق اور فلسطین کے مسٔلہ میں ان کی حمایت کرتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے دو سالوں میں امریکیوں سے بات نہیں کی۔ ہم باقی دنیا سے بات کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ بات چیت ہی آگے بڑھانے کا راستہ ہونا چاہیے۔