'حکمران اور پاکستان اکھٹے نہیں چل سکتے'

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ موجودہ حکمران تہذیب و تمدن سے عاری ہے۔ ہم نا اپنی آزادی سے وفا کررہے ہیں نہ ہی کشمیریوں اور فلسطینیوں سے۔
شائع 16 اگست 2020 07:05pm

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ کل تک سری نگر لینے کی باتیں کی جاتی رہیں آج مظفرآباد کو بچانے فکر لاحق ہوگئی ہے۔مقتدر قوتیں رکاوٹ نہ بنے تو جے یو آئی کا شمار ملک کی بڑی سیاسی جماعت میں ہوگا۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے جے یو آئی سیکریٹریٹ پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر قوتیں رکاوٹ نہ بنے تو جے یو آئی کا شمار ملک کی بڑی سیاسی جماعت میں ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی جس کو جے یو آئی نے کھلم کھلا چیلنج کیا ہے۔جے یو آئی کے علاوہ کسی سیاسی جماعت نے اس تاریخی دھاندلی کو چیلنج نہیں کیا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ موجودہ حکمران تہذیب و تمدن سے عاری ہے۔ ہم نا اپنی آزادی سے وفا کررہے ہیں نہ ہی کشمیریوں اور فلسطینیوں سے۔آزادی محض ناچ گانا کا نام نہیں نا منچلوں کے سڑکوں پر گشت کا نام ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کشمیر میں خون بہہ رہا ہے،بھارت نے عملی طور پر کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا اور حکومت پسپائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیری اور فلسطینی عوام کا حق ادا نہیں کررہے ہیں۔کل تک سری نگر لینے کی باتیں کی جاتی رہیں تھیں آج مظفرآباد کو بچانے فکر لاحق ہوگئی ہے۔قوم کو کس جانب لے جایا رہا ہے؟

انکا کہنا تھا کہ آمرانہ رویوں سے لڑنا ہمیں آتا ہے۔نیب کو ہزار دفعہ استعمال کریں ہم ان حربوں سے خوف زدہ نہیں ہونگے۔

سربراہ جمیعت علمائے اسلام نے کہا کہ ملک بچانا ہے تو موجودہ حکمرانوں سے جان چھڑانی ہوگی۔حکمران اور پاکستان اکھٹے نہیں چل سکتے۔معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے،موجودہ حالات میں کوئی بھی شخص خوش نہیں ہے۔

Read Comments